یوں تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بہت سے صحابیوں کو مختلف
اوقات میں جنت کی بشارت دی اور دنیا ہی میں ان کے جنتی ہونے کا اعلان
فرمادیا مگر دس ایسے جلیل القدر اور خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان
ہیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے منبر شریف پر کھڑے ہوکر
ایک ساتھ ان کا نام لیکر جنتی ہونے کی خوشخبری سنائی ، تاریخ میں ان خوش
نصیبوں کا لقب عشرہ مبشرہ ہے جن کی مبارک فہرست یہ ہے ::
1۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
2۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
3۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
4۔حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ
5۔حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ
6۔ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ
7۔حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ
8۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
9۔حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ
10۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح*رضی اللہ عنہ
(ترمذی جلد دوئم ، مناقب عبدالرحمان بن عوف
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔ ”ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ سعید ابن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں۔ اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالٰی عنہ جنت میں ہیں”۔
(ترمذی)
ابن ماجہ نے اسی روایت کو حضرت سعید ابن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیا ہے۔
اس حدیث مبارکہ میں جن دس جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو جنت کی بشارت دی گئی ہے ان دس جلیل القدر صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کو ”عشرہ مبشرہ” کہتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کو خصوصی بشارت عطا فرمائی تھی اور یہ جماعت جنت کی بشارت کے ساتھ بہت زیادہ مشہور اور ممتاز ہیں تو اس کی مختلف وجوہات میں سے ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ ان سب حضرات کے حق میں جنت کی بشارت ایک ساتھ ایک حدیث میں بیان فرمائی گئی ہے۔ یہ سب حضرات قریشی ہیں اور ان کے لیے جو افضلیت، مناقب اور احادیث منقول ہیں وہ اوروں کے حق میں منقول نہیں ہیں۔ یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جنت کی خصوصی بشارت صرف انہیں دس صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے حق میں منقول نہیں ہے بلکہ اہل بیت بنوت یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اور ازواج مطہرات کے حق میں بھی ہے۔ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرےصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے حق میں بھی ہے۔
البتہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی اس مبارک جماعت (عشرہ مبشرہ) کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین پر فضیلیت و برتری حاصل ہے اور اس میں بھی پہلے خلفاء اربعہ سب سے افضل ہیں اور پھر باقی چھہ حضرات دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے افضل ہیں۔ ان عشرہ مبشرہ کو جو خاص بشارتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی ہیں ان میں سے چند بشارتیں مندرجہ ذیل ہیں:۔
”اگرمیں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیل بناتا، تاہم ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ میرے بھائی ہیں اور میرے رفیق و ساتھی ہیں”۔ (مسلم)۔
”اگر میرے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو وہ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہوتے”۔ (ترمذی)۔
”ہر نبی کا ایک رفیق (یعنی ہمراہی اور مہربان ساتھی و دوست ) ہوتا ہے اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں”۔ (ترمذی)۔
”علی رضی اللہ تعالٰی عنہ مجھ سے ہیں اور میں علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوں”۔ (ترمذی)۔
”جو شخص ایسے شہید کا دیدار کرنا چاہتا ہے جو زمین پر چلتا پھرتا ہے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھے”۔ (ترمذی)۔
”ہر نبی کے حواری (یعنی خاص دوست اور مددگار) ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں”۔ (بخاری و مسلم)۔
”خداوند! عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کر”۔ (احمد)۔
”خداوند! سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ جب تم سے دعا مانگے تو اس کو قبول فرما”۔ (ترمذی)۔
”ہر امت کا ایک ”امین” ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں”۔ (بخاری و مسلم)۔