کوئلہ

محض اٹھارہ سال کی عمر میں عظیم کلرک کی حثیت سے سرکاری نوکرع کرنے پر مجبور ہو گیا باوجود اسکے یہ عظیم کی پڑھائی مکمل کرنے کا وقت تھا. بظاھر وہ پڑھائی چھوڑ چکا تھا. مگر وہ نوکری کے ساتھ پڑھائی کو بھی ٹائم دیتا تھا. دراصل وہ ایک خواب دیکھ چکا تھا. اس کا ٹارگٹ “سی ایس پی” افسر بننا تھا اس خواب کو پورا کرنے کیلئے دن رات محنت کرتا تھا.

گریجویٹ کے بعد اسے “سی ایس ایس” کا امتحان دینا تھا اور وہ بس اسی کی تیاری میں مگن رہا کرتا تھا. عظیم اپنا خواب پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا. عظیم کا یقین کامل تھا کہ جب خواب دیکھ لو تو پھر اسکی تکمیل تک ایسی نیند نہیں سونا کہ دوسرا خواب پہلے کو مسخ کر دے.

عظیم کے والد خادم حسین جن کا بزنس پارٹنر دھوکہ دے کر بیرون ملک فرار ہو چکا تھا. اس کی وجہ سے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے. عظیم اور اسکی بہن مریم کی پڑھائی کا خرچ جیسے تیسے نکل ہی آتا تھا. زندگی کی گاڑی بس رینگھ رہی تھی. اب یہ بھیی کچھ کم شکر نہ تھا کہ گھر کرایہ پر نہیں تھا. چھوٹا تھا مگر اپنا تھا ورنہ کوئی کرایہ دار سے پوچھے مہینہ اتنی جلدی کیسے گزر جاتا ہے.

خادم حسین کو کم و بیش اٹھارہ لاکھ کا نقصان ہوا تھا. جو کے سرکاری جاب کے ساتھ پارٹ ٹائم کاروبار شروح کیا تھا. پچھلے دنوں نوبت فاقوں تک ان پہنچی تھی مگر اب حالت کچھ ٹھیک ہو رہے تھے جسکی وجہ سے خادم حسین کا دوبارہ اپنا پورا دھن جاب پر تھا جو وہ کاروبار میں نقصان کیوجہ سے فراموش کر چکا تھا. اور وہ اب بزنس کو اور اس کی یاد کو تقریباً خیرآباد کہ چکا تھا.

سکھر میں ان کی کزن روبینہ شیخ کی شادی تھی اور سب جانے کو تیار تھے. ایک ہفتے کی چھٹیاں لے کر سب شادی والے گھر پنچھے.

شادی میں عظیم کو اپنی کزن کی بہن حسینہ شیخ بھا گئی. نمبر ایکسچینج کئے گۓ اور پھر قریب ١ سال تک میسیجز اور کالز کا سلسلہ رکھا. عظیم نے اپنے والد کے ہاتھ رشتہ بھجوا دیا جو کے فوری ریجیکٹ ہو گیا. وہی امیر اور غریب کر فرق. حسینہ کے باپ نے کہا بھلا کوئلہ اور ہیرا کا بھی کوئی جوڑ ہو سکتا ہے. کوئلہ کبھی ہیرا نہیں بن سکتا.
رشتے سے انکار ہو گیا اور وجہ بنی کے لڑکا معمولی سا سرکار نوکر ہے. لڑکی کے والد کا یہ اعتراض تھا. چونکے معمولی جاب ہونے کیوجہ سے تنخوا بھی بس مناسب ہی سی تھی لہذا عشق ہار گیا اور پیسہ جیت گیا.
لڑکی کا باپ ہر رشتے کو پیسے میں تولتا تھا. باوجود اسکے سب نے احتجاج کیا مگر حاصل کچھ نہ ہوا.

عظیم کا دل ٹوٹ چکا تھا مگر اس نے ہمت نہ ہاری. اس نے سوچا اگر اس رشتے کو صرف بڑا آدمی یا پیسے والا ہی بن کر حاصل کیا جا سکتا ہے. میں تو پہلے ہی اسی راہ پر گامزن ہوں مگر دنیا اس سے بے خبر ہے. پانچ سال گزر گۓ آج وہ دی-اس-پی کی ٹریننگ لے رہا تھا.
عظیم اب وہ تربیت دی جا رہی تھی کے کیسے ایک “سی ایس ایس” افسر اپنی پروفیشنل اور پرسنل لائف گزارتا ہے.

ٹریننگ کے بعد دوسرے شہر میں چارج سنبھالنے میں ابھی دو دن باقی تھے. ابا جی نے فرمائش ظاہر کی بیٹا تمھارے دور کی کزن کی شادی ہے
اگر وو اٹینڈ کر لیتے تو اچھا ہوتا آج میں بھی اپنا سر انچا کر کے چل پا ئوں گا. اور تھوڑا وکھرے انداز سے شادی دیکھوں گا. عظیم جیسا فرمابردار بیٹا بھلا کیسے انتظار کر سکتا تھا.

قسمت دیکھیں دراصل آج حسینہ شیخ کی شادی تھی. اور آج ایک عام سا شخش عظیم درحقیقت ایک عظیم آدمی بن چکا تھا. عظیم سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کے وہ جیت گیا ہے یا آج اسے شکست ہوئی ہے. وہ بڑا افسر تو بن گیا تھا لیکن عشق کی بازی ہار گیا تھا. مگر اس کے حوصلے بلند تھے. آج خاندان عظیم کی عظمت کو سلام کر رہا تھا.

وہ اپنی حسینہ کو خوش دیکھنا چاہتا تھا. عظیم کا دل ٹوٹ چکا تھا. وہ دل برداشتہ ہو کر شادی اتٹنڈ کرنے کے بعد اپنے راستے نئی منزلیوں کی تلاش میں گم ہو گیا. حسینہ اپنے شوہر کا ساتھ خوش ہے. حسینہ کے شوہر کا چھوٹا موٹا کاروبار ہے وہ اپنی زندگی مڈل کلاس طریقے سے گزار رہیں ہیں.

چند سال بعد عظیم کی شادی بھی ہو گئی. عظیم کی زندگی شاہانہ طرز کی تھی. سرکاری گھر، نوکر چاکر، شان و شوکت، جاہ و جلال اور وہ رتبہ جس کا بہت سے لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے. آج حسینہ کے والد بھی اسی سوچ میں تھے کے عظیم جسے اس نے کوئلہ سمجھا تھا وہ تو دراصل ہیرا تھا.

اب سب اپنے اپنے گھر خوش ہیں. عظیم کی بیوی نے اسے وہ پیار و محبت دی اور وہ عزت دی کے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی.

آج برسوں بیت گے یوں لگتا ہے جیسے حسینہ کو اسی شوہر کی ضرورت تھی اور عظیم اپنی بیوی کے سوا کہیں اور شادی کرتا تو شاہد اتنا خوش نہ ہوتا. وہ ایک سی. اس. پی. افسر تھا اور وقت نے ثابت کیا حسینہ سے شادی کرنا عظیم کا درست فیصلہ نہ ہوتا.

خدا آپکو وہ انسان نہیں دیتا جسے آپ چاہتے ہیں… بلکہ وہ دیتا ہے جسکی آپکو ضرورت ہے.

غیر معمولی دباؤ برداشت کرنے والے کوئلے کو ھی قدرت ھیرے میں ڈھالتی ھے۔ ورنہ عام حالات میں تو کوئلہ قیامت تک کوئلہ ھی رھتا ھے. آج عظیم وہ ھیرا تھا جس کا شمار کبھی کوئلے میں ہوتا تھا.

Leave a Comment