حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پراللہ تعالی کا دردناک عذاب

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پراللہ تعالی کا دردناک عذاب
قاری محمد حنیف ملتانی

پیغمبر حضرت لوط عليه السلام کا واقعہ

حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے نبی ہے، حضرت لوٹ (علیہ السلام)، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے دے۔ اور ان پر ایمان لانے والا میں سے۔ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا جو فلستین (بیت المقدس) یا اردن کے آس پاس بسی ہوئی تھی؟ جسے صدوم کہا جاتا تھا یہ سرزمین سرسبز (سبز، ہریالی) اور شاداب تھی اور یہ پر ہر ترہا کا اناج (گلہ) اور پھلو (پھل) کی کثرت تھی.
*اس قوم کے لیے لوط (علیہ السلام) کو نبی بناکر بھیجا گیا اسلیے اس قوم کو قوم لوط کہا جاتا ہے۔ ان کی قوم میں ایسی برائی پائی جاتی تھی جو ان سے پہلی دنیا کی کسی بھی قوم میں نہیں پائی گئی؟

ان کی قوم کے مرد اپنی نفسیاتی خواہش کو پوری کرنے کے لئے مردوں کے پاس جاتے تھے. اور اس قوم کی یہ برائی اتنی عام ہو گئی تھی کے وو اس برائی کو برا نہیں سمجھتے تھے بلکه اس پر فخر کیا کرتا ہے.

حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی اصلاح کی بہت کوشیش کی، حضرت لوط (علیہ السلام) انکے بیچ میں رہ کار دین کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان کی قوم پر کوئی اثر نہ ہوا حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا، “اے میری قوم تم لوگ ایسا برا اور بےحیائی کا کام کر رہے ہو جو آج تک دنیا میں کسی نے نہ کیا، یہ بہت گنا کا کام ہے، تم اپنی عوتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو، اگر تم اپنے اس برے کام سے باز نہ آئے تو مجھے ڈر ہے ایک دن تمھے اللہ تعالیٰ کا عذاب گہرے گا میں تم سے اپنے اجر کی کوئی قیمت مانگتا میرا اجر تو میرے رب کے پاس ہے، جو سارے عالم کا مالک ہے”۔

Subscribe us on YouTube.
Like & Share…
https://www.youtube.com/@galzaari

Leave a Comment