ابلیس سے خواب میں ملاقات و مناظرہ:
یوں تو ہم سب اپنی زندگی میں کئی خواب دیکھتے ہیں اُن میں بہت سے خواب ہمیں یاد بھی نہیں رہتے. مگر ایسے خواب جو زندگی بدلنے کی خاصیت رکھتے ہوں وہ نہ صرف یاد بھی رہ جاتے ہیں بلکہ ہماری زندگی پر گہرا اثر رکھتے ہوے ہمارے سوچنے کا انداز بھی بدل دیتے ہیں.
ایسا ہی ایک خواب پیش خدمات ہے. میرا خواب شیطان ابلیس کے بارے میں ہے جس سے میری خواب میں ملاقات ہوئی. ویسے ہم شیطان کو ہر حالت میں بھگانا ہی چاہتے ہیں مگر میں نے خواب میں موقع کو غنیمت سمجھا، کیوں نہ کچھ سوالات کے جوابات ہی پوچھ لئے جائیں. شیطان سے مخاطب ہوا اور پوچھا کیا کچھ شک و شبھات دور کرنے کی غرض سے میں کچھ سوالات پوچھ سکتا ہوں. رضامندی ظاہر کرنے پر میں نے پوچھنا شروح کیا.
واضح رہے ہوش و حواس اور بیداری کی حالت میں میری شیطان سے ملنے کی چاہت بلکل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی خاص ضرورت تھی ہاں البتہ بہت سے سوال جو ذھن میں گردش کر رہے تھے اس خواب کیوجہ سے کچھ کلیر ہوۓ ہیں.
میرا نام اسد عقیل ہے میری سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ میرے اللهﷻ نے مجھے ختم الرسولﷺ کا امتی بنا کر بھیجا ہے.
ابلیس کا انٹرویو:
شیطان سے کچھ سوالات جو حالت نیند میں خواب دیکھتے ہوے پوچھے وہ سوالات اور شیطان مردود کے جوابات حاضر خدمات ہیں.
عقیدہ ابلیس:
اسد: کیا تم اس بات پر اعتکاد رکھتے ہو. اللہﷻ ہی معبود برحق ہے وہ بےنیاز ہے اور رب العلمین ہے. تمام جہانوں کا وہی خالق و مالک ہے. اور وہی ذات ہے جو ہر اک شہ پر قادر ہے.
شیطان: ہاں میں مانتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں اللهﷻ پر میرا اعتکاد کم از کم تم انسانوں بلکہ مسلمانوں سے تو بہرحال قدرے بہتر ہے.
اسد: کیا مطلب تمہارا، میں سمجھا نہی تم شیطان مردود ہی ہو نہ تو پھر تمہارا اعتکاد ہم انسانوں اور مسلمانوں سے بہتر کیسے ہوسکتا ہے بڑی ہی عجیب بات کی تم نے. تم تو ابلیس، شیطان، مردود، خبیث، تمام انسانوں کا کھلا دشمن اور نہ جانے کیا کیا برے نام ہیں تمھارے … اللهﷻ کی پناہ.
شیطان: مسکراتے ہوے. لگتا ہے تن بدن میں آگ لگ گئی ہو جیسے جو میں نے کہ دیا… میرا اعتکاد تم مسلمانوں سے بہتر ہے. ہمت ہے تو سنو اور پھر فیصلہ کرو. جب مجھے جنت سے نکالا گیا تو میں نے صرف اسی رب سے ہی مانگا اور اسی ایک رب سے التجا کی کیونکہ جانتا تھا وہی قادر متلعق ہے.
تو پھر مجھے مہلت دے دیں اس دن تک جب لوگ دوبارہ زندہ کر کے اٹھاے جاییں گے. جبکے تم میں سے اکثر شرک کی گمرہی میں مبتلا ہیں. خوب جانتے ہوے کہ دینے والی ذات صرف اللهﷻ ہے پھر بھی غیر اللهﷻ کے در پر جھکے رہتے ہو. غیر اللهﷻ سے مانگتے ایسے ہو جیسے قبر والا ابھی باہر آ کر تمہیں سب کچھ دے گا جبکہ حقیقت تو یہ ہے وہ بیچارہ اسقدر محتاج ہے کہ اب اپنے لئے بھی کچھ نہیں کر سکتا. تو اس لحاظ سے میرا عقیدہ کم از کم تم مسلمانوں سے تو قدرے بہتر ہی ہوا نہ. کیوں کیا کہتے ہو.
الله کی حکم عدولی:
اسد: مطلب شروع میں ہی اٹیک… میں تمھیں اس کا جواب ضرور دونگا پہلے یہ بتاو سب سے پہلے بتاؤ ایسے گناہ جو تم نے سب سے پہلے کیےان کا جواب دیتے ہو.
• سب سے پہلے الله کی نافرمانی تم ابلیس نے کی.
• پھر نافرمانی کے بعد شرمندہ نہیں ہو بلکہ عزر دینے لگ گۓ .
• معافی نہیں مانگی بلکہ الله کی رحمت سے مایوس ہو گۓ .
• سب سے پہلے حسد تم نے کیا.
• سب سے پہلے تکبر تم نے کیا.
• مطلب سب سے پہلے گنہگار ثابت ہوے
تم نے اِسی رب کی حکم عدولی کی تھی جس نے تمہیں خلق کیا پھر تم جن مطلب جنات کی مخلوق سے ہو مگر تمہیں فرشتوں کر سردار بنا دیا، تم شیطان کو بھی تو عزت راس نہیں آئی. اور پھر اللهﷻ کا حکم ہوا. اے فرشتو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو. تو سب نے سجدہ کیا مگر تم نے سجدہ نہیں کیا. یہ حکم اللهﷻ کی طرف سے تھا اور اس میں ابلیس تم بھی شامل تھے. آدم علیہ السلام علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا سب فرشتوں کی جماعت نے بلا عذر سجدہ کیا جبکہ تم نے سجدہ نہیں کیا. اور سرکش ہو گۓ اور صاف انکار کر دیا. پھر رب نے جو تمہارا حال کیا وہ کسی سے مخفی نہیں. اس وقت تمہارا عقیدہ کہاں تھا. کیا یہی وہ اعتکاد تھا جو ہم مسلمانوں سے بہتر ہے.
شیطان: بھئی تم تو جانتے ہو آدم علیہ السلام مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے. مٹی پستی کی نشانی ہے اور آگ بلندی کی. اب تم ہی بتاو ایک اعلی کسی ادنی کو کیسے سجدہ کر سکتا ہے.
ابلیس کا عذر:
اسد: جب اللهﷻ کا حکم تھا تو پھر عذر کیسا. اللهﷻ کی نافرمانی کا نتیجہ تم آج تک بھگہت رہے ہو. سب جانتے ہیں تمہارے سجدہ نہ کرنے پر کس طرح دھتکار کر تمہیں دربار خدا وندی سے نکالا گیا. اور پھر تمھیں کس کس نام سے پکارا گیا. کبھی ابلیس تو کبھی شیطان ملعون اور جانے کیا کیا. اللهﷻ کی پناہ… تم سے بڑا بیوقوف میں نے آج تک نہیں دیکھا.
شیطان: مسکراتے ہوے… مطلب ایک ایسا سجدہ جو کے اللهﷻ کی ذات کو بھی نہیں تھا بلکہ اللهﷻ کے حکم سے وہ سجدہ تعظیماً آدم علیہ السلام کو تھا اگر مجھے دربار الہی اور جنت سے نکال دیا گیا تو پھر سوچو تم ایک دن میں درجنوں سجدے نہیں کرتے جو بلا شبہ صرف اور صرف اللهﷻ کی ذات کو ہیں تمہارا شمار کون سی لسٹ میں ہونا چائیے. اب بولو کون بیوقوف ہوا؟؟؟
عقل کے اندھو… میں نے الله کو چیلںج کیا کہ تمھیں گمراہ کر کے رہوں گا اور تم جیسے بیوقوف میرا مطلب شیطان کا ساتھ دے رہے ہو. اب بتاؤ مجھ سے بڑا بیوقوف دیکھا یا نہیں.
کڑوا سچ:
اسد: مجھے بہت شرمندگی ہوئی بلکہ شیطان کی اس بات نے مجھے جہنجوڑ کے رکھ دیا تھا. پھر جلدی سے سنبھلا اور بات کو بدلنے لگا.
شیطان:کیا ہوا سچ کڑوا لگا کیا… طنزیہ انداز اپناتے ہوے.
توبہ کا دروازہ:
اسد: وہ ربﷻ بڑا رحیم و کریم ہے. اور توبہ کا دروازہ تو کھلا ہی ہے نہ. جب انسان کے لیے سب دروازے بند ہو جاتے ہیں تو وہ پاک ذات ہی ہے جو رحمت کے دروزے کھول دیتا ہے. اور پھر ہمارے پیارے نبی ختم الرسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے “جس سخص نے کوئی غلطی کی یا کوئی گناہ کیا اور پھر اس پر شرمندہ ہوا، تو یہ شرمندگی اس کے گناہ کا کفارہ ہے.” مگر تم تو شیطان ہو تم یہ بات نہیں سمجھو گے. تمھیں تو صرف غرور اور تکبر سے اکڑنا ہی آتا ہے. یاد رکھنا تکبر چاھے دولت کا ھو یا طاقت کا، رتبےکا ھو یا حیثیت کا، حسن کا ھو یا علم کا حسب و نسب کا ھو یا تقوی کا رسوا کر کے ھی چھوڑتا ھے. جیسے تمہیں تکبر نے روندا درگاہ کروایا. اچھے خاصے الله کی جنّت میں جن ہو کر فرشتوں کے سردار بنے بیٹھے تھے.
شیطان: اچھا تم تو سب سمجھتے ہو نہ پھر بھی… مسجد تک جاتے نہیں اور مدینے میں مرنے کی دعا مانگتے ہو اور سب کو یقین ہے کہ جنت میں ضرور جاؤ گے. جنت تمھارے باپ ہی ہے کیا. حکم تو نفس مارنے کا تھا یہاں ضمیر مرے پڑے ہیں تم لوگوں کے. دیکھو اگر لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر بھی تم پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو سمجھ لو کے تم لوگوں کے ضمیر کا جنازہ نکل چکا ہے.
اللهﷻ قادر مطلق:
اسد: بلا شبھہ یہ کائینات اسی خدا یکتا نے بنائی ہے تو جنت کا مالک بھی وہ ایک اللهﷻ ہی ہے. ہاں بہرحال بنائی خدا نے حضرت آدم علیہ السلام اور اسکی اولاد کے لیے ہے. اور ہاں جنات میں بھی کو نیک ہوں کے وہ بھی اللهﷻ کے فیصلے کے مطابق جنّت میں جائیں گے.
جبکے تم اور تمھارے پیروکار ابدی زندگی کے لیے دوزخ کا ایندھن بننے والے ہو. میرا رب فرماتا ہے اے میرے بندے تو میری طرف چل کے آ میں تیری طرف ڈوڑ کر آؤںگا. میرے خوف سے آنسو بہا کر تو دیکھ میں مغفرت کے دریا نہ بہا دوں تو کہنا. اور مسلمانوں کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، غم، رنج،دکھ اور تکلیف پہچتی ہے حتی کہ اسے کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللهﷻ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنے بندےکی خطائیں معاف فرما دیتا ہے. یاد رکھنا کوئی تمہارا کردار اٹھا کر بیچ سڑک پر بھی لٹکا دے تو بھی یاد رکھو وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ۖ – جسے اللهﷻ چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے اللهﷻ چاہے ذلیل کرتا ہے. جب عزت و ذلت سب قادر متلعق کے ہاتھ میں ہے تو پھر پریشانی کیسی.
شیطان: اچھا… نماز میں تمہارا دھان نہیں ہوتا. قرآن تم صحیح سے پڑھ نہیں سکتے. اسکا کیا جواز ہے تمھارے پاس. یہ مت سمجو کہ تم اپنی مرضی سے نماز نہیں پڑھتے، بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، “اللہ تم سے ملاقات کرنا ہی پسند نہیں کرتا” .وہ تم کو اپنے گھر بلاتا ہے مگر تم نہیں جاتے.
حاضری:
اسد: میری توفیق بھی ہے رب کی عطا کا صدقہ کیونکے یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھاے جاتے ہیں. بس حاضری لگتی رہنی چائیے. پتہ چلنا چائے کہ بندہ آیا سبق یاد ہے یا نہیں وہ بعد کی بات ہے مگر کلاس میں حاضری ضروری ہے. جبتک بلاوا نہ ہو حاضری نہیں ہوتی. پہلے حاضری کی منظوری ہوتی ہے. تب جا کر اسباب پیدا ہوتے ہیں.
نماز میں خیالات میں بھٹکنے کا بھی سن لو اے شیطان…
حضرت علی ؓ سے جب ایک یہودی نے پوچھا تھا کے اے علی ؓ تم لوگ جب نماز پڑھتے ہو تو ادھر ادھر کے خیال آتے ہیں جبکے ہماری عبادت میں ایسا نہیں ہوتا. تو جناب علی ؓ نے فرمایا تھا چور وہیں کچھ لینے آتا ہے جہاں کچھ ہو. تو جب ہمارے پاس ایمان ہے تو لینے آتا ہے. تمھارے پاس ایمان ہی نہیں تو لینے کیا آے گا.
اور جہاں تک بات ہیں قرآن کریم پڑھنے کی تو وہ بھی سن لو. صحیح بخاری میں اماں عائشہ ؓ رسول کریم صلى اللهﷻ عليه وسلم سے راویت کرتی ہیں. “اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھ پاتا ہے. اور اس کو پڑھنے میں مشقت ہوتی ہے تو اس کے لیے دُگنا اجر ہے.”
شیطان: تم بھی عجیب دنیا میں رہتے ہو. تم میں اگر کوئی شادی شدہ ہے تو وہ دوسری لڑکی یا طلاق کے چکر میں ہے. غیر شادی شدہ ہو تو شادی کے خیالوں میں. بچوں کو بڑے ہونے کی جلدی ہے. بڑوں کو بچپن دوبارہ لوٹنے کی آرزو. نوکری کرنے والے اپنے کام کی سختیوں سے نالاں ہیں. بیکاروں کے لبوں پر روزگار ملنے کی دعائیں. غریبوں کو امیروں کی زندگی کی حسرت رہتی ہے. جبکہ امیروں کو کچھ لمحے آرام کی تمنا. مشہور افراد چھپنے کے ٹھکانے تلاش کرتے ہیں جبکے عام لوگ مشہور بننے کے خیال میں. وغیرہ وغیرہ …
خواہش دنیا:
اسد: جی سہی بات ہے. یہی تو خواہش دنیا ہے جس دن سیدھی راہ ملتی ہے تو دل میں سکون ہو جاتا ہے کہ جو نعمتیں رب نے مسلمان کو دی ہیں وہ ان سب کا شکر ادا کرتا ہے. اور جو نہ ملی یا نعمتیں دے کر واپس لے لی گیئ ہوں اس پر صبر کرتا ہے. بیشک دلوں کا سکون صرف اور صرف اللهﷻ کے ذکر میں ہے. اور وہ اللهﷻ ہی ہے جو ہم سب کو محفوظ رکھتا ہے. اسی لیے ہم اسی کی ذات پر توکل کرتے ہیں. اور یہ اپنی حالت سے بدلنے کی تمنا زندگی میں نیا جوش دیتی ہے. تم خیال کرتے ہو ہم بُت بن کر بیٹھے رہیں اور کچھ خواہش نہ رکھیں, کچھ نہ کریں.
شیطان: اچھا مطلب تجھے اللهﷻ پر بہت یقین ہے تو اونچے پہاڑ پر چڑھ کر چھلانگ لگا دے دیکھتے ہیں کہ تیرا اللهﷻ تجھے بچاتا ہے یا نہیں.
آزمائش:
اسد: اس مرتبہ میں مسکرایا اور بولا. یہ اللهﷻ کا کام ہے مجھے آزماے میرا کام نہیں کے میں اپنے سچے رب ذولجلال کو آزماوں. رہا نہ شیطان کا شیطان، کم عقل. میں نے سنا تھا تم جنات کی عقل ہم انسانوں کے مقابلے میں ١٠ سال کے بچے کے برابر ہوتی ہے. اور تو نے ثابت بھی کر دیا.
شیطان: جواب تو بڑا زبردست دیا ہے. مگر ایک بات تو ہے کے تم میں زیادہ تر تقریباً پریشان ہی رہتے ھو. سکون نام کی کوئی چیز نہیں تمہاری زندگی میں اور تمھارے پاس اس کا کوئی حل بھی نہیں ہے. رب کی بیشمار مخلوقات میں سے تم انسان ہی تو ہو جو پیسہ کماتے ہو اور مزے کی بات سنو تقریباً سب مخلوقات کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر تمہارا پیٹ نہیں بھرتا. پیٹ بھر جائے تو آنکھیں نہیں بھرتی. اور نیت تو خیر کبھی بھرے گی نہیں تمہاری.
دلوں کا سکون:
اسد: بےشک اللہ کے ذکر میں ہی دلوں کا سکون ہے۔
مصیبت پر پریشان ہو جانا انسان کے انسان ہونے کی دلیل ہے مگر پریشان رہنا اللهﷻ پر توکل نہ ہونے کی دلیل ہے. اس لیے پریشانی کو روگ نہیں بنانا. بس تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی. سنا نہیں با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب. اور یہ خوبیاں ہم کو باکمال بنا دیتی ھیں ٹھنڈا دماغ. میٹھی زبان. نرم دل. چہرے پہ مسکراھٹ…
ارشاد نبویﷺ ہے ’’ نیت المومن خیر من عملہ‘‘ مومن کی نیت اس کے عمل سے اچھی ہے. اور ایک دوسری حدیث میں فرمانِ نبویﷺ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّـیَّاتِ “اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے.”
شیطان: باتیں ہی تو کرنی آتی ہیں تم مسلمانوں کو. سب کے سب عالم و فاضل بن چکۓ ہو. صرف اچھی اور نیک باتیں کر کے اعمال کیۓ بغیر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنا کر صرف دوسروں کو بدلنا چاہتے ہو. اور اس پر ستم یہ کے چار یا چھ حدیثیں یاد کر لیں وہ بھی سب سے چھوٹی والی. نہیں یقین تودیکھ لو اپنی تحریر کوئی حدیث ہے جو چند لفظوں سے بڑی ہو. (مسکراتے ہوے.)
قول و فیل میں تضاد تمہارا مشغلہ بن چکا ہے. صرف اچھی باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا. کچھ اپنے اعمال کا بھی سوچا ہے. ہر کسی کو نصیحت کرتے پھرتے ہو اور اپنا وجود گناہوں کی دلدل میں پھنسا پڑا ہے.
کامیابی سے یاد آیا جب اذان کے وقت موذن دن میں پانچ مرتبہ کہتا ہے حي علي الفلاح “آؤ کامیابی کی طرف” تب تو تم سنتے نہیں. اور سارا دن کامیابی کے لیے کبھی رزق کی تلاش میں لگے رہتے ہو تو کبھی فضول کاموں میں. یا تو تم اذان کا مطلب نہیں سمجھتے یا سب کچھ سمجھتے ہوے انجان بنے بیٹھے ہو.
ایمان کی کمزوری:
اسد: ایک لمحے کے لیے اگر تمہاری بات تسلیم کر بھی لوں تو کیا یہ بات سچ نہیں کہ یہ تم شیطان ہی تو ہو جو ہم مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگے ہو. کبھی صبح اٹھنے نہیں دیتے تو کبھی کام یاد دلا دیتے ہو. کبھی کھیل میں مشغول کر رکھتے ہو تو کبھی کوئی بہانہ بتا دیتے ہو. غرض یہ کے تم شیطان کا کہیں نہ کہیں زور چل ہی جاتا ہے. مگر یہ مت سمجھنا کے ہم ایمان کے کمزور ہیں.
شیطان: فخریہ انداز اپناتے ہوے. تو مطلب تم یہ مانتے ہو کہ میں تم کو گمرا کرنے میں کامیاب رہا ہوں. تم لوگوں کو صبح جلدی اٹھنے میں جو پڑتی ہے اسے سادہ الفاظ میں موت کہتے ہیں… ہنستے ہوے.
یاد رکھنا صبح جلدی صرف چار چیزیں اٹھاتی ہیں. محبت، ماں، محنت اور مجبوریاں. اور تم لوگوں کے پاس ہر ایک چیز کا بہانہ ہے.
گناہوں پر احساس ندامت اور توبہ:
اسد: ہار تو تسلیم نہیں کرتا مگر ہاں یہ بات کافی حد تک درست ہے. کبھی کبھی ہم اپنے حواس کھو دیتے ہیں اور گناہ کر بیٹھتے ہیں.
مگر گناہ کرنے کے بعد یا نماز چھوڑ کر ہمیں کوئی خوشی نہیں ہوتی. پچھتاوا ہوتا ہے. ہم پشیمان ہوتے ہیں. کوئی مسلمان فخر سے کسی کو نہیں بتاتا آج میں نے فلاں گناہ کیا ہے یا نماز چھوڑی ہے. اور ہاں ہم اللہﷻ سے اس کی معافی طلب کرتے ہیں نہ کے تمہاری طرح اکڑ جاتے ہیں. اور بجانے اسکے غرور کریں ہم توبہ کرتے ہیں. اور اپنے رب کو رحیم و کریم جانتے ہوے اس رب کو غفور رحیم مانتے ہوے معافی مانگتے ہیں. ویسے بھی بزرگوں کا کہنا ہے “جب تجھے نیکی کر کے خوشی ہو اور برائی کر کے پچھتاوا ہو تو سمجھ لے تم مومن ہے.” مرے پاک پروردگار نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے. اب مرنے سے پہلے یا اس دن تک جب سورج مغرب سے نہ نکل جائے.
شیطان: جس دنیا کے پیچھے تم سارا دن بھاگتے ہو تم جانتے ہو اللہ کی نظر میں اس کی حقیقت، قیمت اور اہمیت کیا ہے.
دنیا کی قیمت:
اسد: جی بلکل ہم جانتے ہیں. پیارے آقا صلى اللهﷻ عليه وسلم کا فرمان ہے کے “اگر اللهﷻ کے نزدیک دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو اسمیں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا.” اور ہمارے پاس یہ جو حدیث ہے اس کے کیا کہنے.
ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صلى اللهﷻ عليه وسلم کا فرمان ہے”فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں (سنت) دنیا اور دنیا کی تمام تر چیزوں سے زیادہ بہتر ہیں.” جب ہم مسلمانوں کی صرف صبح کی دو سنتیں اس دنیا اور دنیا کی تمام تر چیزوں سے زیادہ بہتر ہے تو سوچو کتنا کریم رب ہے وہ رَب ذلجلال جسکا اتنا شفیق رب ہو وہ مایوس کیسے ہو سکتا ہے. ہمارا یہ ایمان ہے کے وہ رَب اپنے بندے کو 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا رب کریم ہم مسلمانوں کو جنّت ضرور عطا فرماۓ گا. ویسے میرا یہ احساس ہے وہ رب کریم 70 ماؤں والی مثال دے کر یہاں ماں کی عظمت بیان کر گیا ہے. میں یہ سمجھتا ہوں کے رب نے مثال دیتے اس رشتے کا انتخاب کیا ہو گا جس میں کم سے کم گنا بتانا پڑے. اور کسی رشتے سے موزانہ کرنا پڑتا تو کئی سو یا ہزار گنا کہنا پڑتا. خیر یوں ہی تو اس رب نے قران میں اپنے حق کے فوراً بعد والدین کے حق کا ذکر کیا ہے.
ہم مسلمان اس بات پر پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر امیر ہو جاؤ تو مغرور مت ہونا، اور اگر غریب ہو جاؤ تو مایوس مت ہونا. اور آقا کریمﷺ کی بخاری شریف میں روایت ہے “امیری یہ نہیں ہے کہ مال اسباب زیادہ ہو، بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو.”
شیطان: مطلب سب کچھ جانتے بھی ہو. پھر بھی نماز نہ پڑھ کر دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہو. جس کی کوئی حیثیت نہیں. کیا تم جانتے ہو موت سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو تم سب انسان بھلا بیٹھے ہو. جبکے زندگی سب سے بڑا دھوکہ ہے جس کے پیچھے تم سب مسلمان بھاگ رہے ہو. سب کو رزق عطا کرنے کا پاک پروردگار نے وعدہ کیا جبکے سب کو جنت میں بھیجوں گا یہ وعدہ نہیں کیا. تم لوگوں کا حال ہے کے رزق کمانے کیلئے گناہ پر گناہ کرتے ہو. اور جہنم میں جانے کا انتظام کۓ بیٹھے ہو. کم از کم اللهﷻ کے وعدے پر تو یقین رکھو. خالق کے وعدے کا احترام تم سب پر لازم ہے. تم مخلوق کے ساتھ جو وعدہ نبھاتے ہو اسکا حال تو سب کے سامنے ہے. تمہاری ڈگریاں درحقیقت تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہیں ورنہ علم تو وہی ہے جو عمل سے ظاہر ہو. اخلاق کے آخری درجے پر ہونے پر اے مسلمان تجھے شرم تو نہیں آتی ہو گی. شرم آنے کے لئے غیرت کا ہونا اشد ضروری ہے. اب غیرت کہاں رہی مسلمان میں ورنہ دنیا میں بہت سے ملکوں میں مسلمانوں کی تذلیل ہوئی ہے تم میں سے کسی کا خون نہیں کھولا. وہ چاہے کمسن بچوں کی خون سے لت پت لاشیں ہوں یا پھر خواتین کی آبرو ریزی ہو. نام کے مسلمان ہو کر رہ چکے ہو اب تم.کہنے کو بہت کچھ ہے مگر جب تم پر قرآن و حدیث کا اثر نہیں ہوتا تو پھر بھلا پیچھے کیا رہ جاتا ہے.
علم اور ادب:
اسد: دیکھ سب جانتے ہیں علم تجھ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ اے مردود تو ﺍﺩﺏ ﺳﮯ محروم تھا. ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ.
اور ہم بلکل اچھے سے جانتے ہیں کہ شیطان کے خلاف اس دن کی پہلی فاتح یہی ہے کہ اگر فجر کی نماز پڑھ لی جائے. اور پھر اللہ اس انسان پر پورا دن رحمت قائم کریں گے. اور سارا دن الله کے فضل سے شیطان کے شر سے محفوظ رکھیں بشرط اسکے ہم خود جانتے بوجھتے گناہ کو دعوت دیں. یہ تم شیطان ہی تو ہو جو ہم کو ورغلاتے ہو.
اچھا یہ بتاو تمھارے لئے سب سے بڑی کامیابی کیا ہے ہمارے خلاف.
شیطان: ویسے تو تم میں سے اکثر پر مجھے اب زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی کیونکے تم میں زیادہ تر اب اپنے نفس کے غلام بن چکے ہو. ہاں پھر بھی میری خوشی اور کامیابی تو اسی میں ہے کے جب میں شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی، غلط فہمی، شک و شبہات اور برتری کا فتنہ ڈالنے میں کامیاب ہو جاتا ہوں. شوہر اور بیوی کا فتنہ میرا پسندیدہ مشغلہ ہے. جب دو خاندان میں آگ لگتی ہے تو سچ پوچھو بڑا مزہ آتا ہے. دونوں کے ماں باپ، بھای بہن، بچے حتی کے عزیز و اکارب میں بھی غم کی لہر دوڑہ جاتی ہے. اور لڑکی کے ماں باپ کی حالت تو دیکھنے لایق ہوتی ہے.
شرک گناہ عظیم:
اسد: مطلب ہماری بربادی ہی تمہاری خوشی ہے. سچ پوچھو تو واقہی تمھارے شر سے بچنا کوئی آسان کام نہیں. بیشک اولاد کا غم ماں باپ کو جیتے جی مار دیتا ہے. اور بلخصوص بیٹی کا دکھ تو اللہ کسی دشمن کو بھی نہ دے. مگر میں کسی اور جواب کا منتظر تھا. سوچا تم کہو گے جب کسی مسلمان کو شرک پر راغب کرتا ہوں تو وہ تمہاری سب سے بڑی جیت ہے. کیونکے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے. اے مسلمانوں شرک ایک ایسا گناہ عظیم ہے جو میں معاف نہیں کروں گا اگر اسی حالت میں موت آ جاۓ. ہاں اگر توبہ کر لی مرنے سے پہلے تو وہ بےنیاز ذات جس کو چاہے معاف کر دے.
شیطان: صحیح بات کی تم نے مگر کیا تم سمجھتے ہو اب بھی تم لوگوں کو شرک کیطرف راغب کرنے کی ضروت ہے.
مشرک:
اسد: کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں. یہ تو بڑی عجیب بات کی تم نے. تم نے ہم میں سے اکثر کو مشرک بول دیا. یا میں کچھ غلط سمجھا ہوں. دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا.
شیطان: تم وہی سمجھے ہو جو میں کہنا چاہتا ہوں ہاں مگر میری یہ بات ذرا وضاحت طلب ہے.
کیا اللہ جب تم لوگوں کو تنگی رزق سے آزماتا ہے تو تم غیراللہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے. اولاد کی محرومی تم سے کیا کیا شرک اور بدعت نہیں کراتی. اور یہ نظر و نیاز کیا ہے. اور پھر جو تم قبروں پر جا کر سجدے کرتے ہو. قبروں کی مٹی چاٹتے ہو. یہ جو تمہارے بابا جی، پیر جی ،مرشد، گدی نشین، سرکار، مشکل کشا، گیارھویں والے اور غریب نواز اور نہ جانے کون کون سے الکاب سے تم ان کو پکارتے ہو. اور واسطہ بناتے ہو. یہ سب شرک کی اقسام نہیں تو اور کیا ہے.
بہرحال جتتی تم میں عقل ہے تم سمجھو گے نہیں میں کوشش کرتا ہوں کچھ اور وضاحت سے بات سمجھا سکوں. تو اب ذرا غور سے سننا. اچھا میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں اگر تمہاری عقل ناقص میں میری بات آ جاے. تم صرف ایک ادنہ سی مخلوق ہو… سوچو اگر تم میں سے کسی کی بیوی اپنے شوہر سے کہے میں تیری “بھی” بیوی ہوں. جبکے اسے کہنا یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف تیری “ہی” بیوی ہوں. اس “بھی” اور “ہی” کے فرق کو جانو. جو اپنے مجازی خدا سے شرک کر بیٹھے تو اس کی مافی نہیں. اور جب تم اپنے حققی خدا سے شرک کرتے ہو تو سوچو تمہارا رب کتنے جلال میں آتا ہو گا. تم حقیر مخلوق ہو کر برداشت نہیں کر سکتے. تم شوہر تو اپنی بیوی کی بیوفائی پر اس کو قتل کرنے کے درپے ہو جاتے ہو. جبکہ تیرا رب پھر بھی نہ رزق روکتا ہے نہ سانس. شرم تو نہیں آتی تم مسلمانوں کو در در پر جھکتے ہوے.
اسد: تمہاری بات سے مجھے غصہ آیا مگر میں نے تمھیں ٹوکا نہیں. اب تم بھی شیطان مردود ہو تو جواب پورا سن کر ہی اپنی زبان کھولنا.
شیطان: تمہارا انداز بتا رہا ہے تمہیں غصہ آیا. دیکھو کیسے کان لال ہو گۓ تمہارے، قہقہہ لگاتے ہوے.
اسد: میں نے پہلے ہی کہا تھا اب بولنے کی باری میری ہے اور مجھے ٹوکنا بلکل نہیں. جواب سن لو اگر تمہارے کان کے ساتھ منہ بھی لال بلکہ کالا نہ ہو جاے تو کہنا.
شیطان: بھائی کو لگتا ہے یہ بات زیادہ ہی چبھی ہے. انداز گفتگو کا خیال تو کیا رکھتے، بھائی تو آداب گفتقگو بھی بھول گۓ.
شیطان کا رشتہ دار:
اسد: بھائی کس کو بولا خبیث. اپنی اوقات میں رہو. ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا.
شیطان: تم سے برا اور ہو بھی کون سکتا ہے. جو مسلمان یتیم کا مال کھا جائے، خواتین کی ابرو اچھالنے میں یہ فرق تک بھول جائے کے اس سے میرا رشتہ کیا ہے. بہنوں کو تم ورثے میں حصہ نہیں دیتے. بھائیوں کا حق کھا جاتے ہو. ماں باپ کی تم نے عزت تو کیا کرنی تھی، دورحاضر میں ماں باپ تم سے بات کرتے ڈرتے ہیں کہیں اولاد اونچی آواز میں بول کر عزت افزائی نہ کر دے.
ارے اب تو میری ہر بات بری لگنے لگی. تمھارے قرآن میں کیا نہیں لکھا فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے. مگر کیا پتا تم لوگوں نے قرآن بھی ترجمے سے پڑھا ہو گا یا بس خانہ پوری ہی کی ہوگی ورنہ بھائی کہنے سے یوں برا نہ مناتے. کیوں بھائی…
اشرف المخلوقات:
اسد: غصے کو قابو کرتے ہوے… دیکھ خبیث اب ذرا دیھان سے سننا میری بات. ذرا تمھارے پہلے سوال کا جواب دے دوں پھر بھائی اور ترجمے والی بات کا خلاصہ کرتا ہوں.
عقل کی بات تو تم رہنے ہی دو. عقل کی بات ذرا سمجھ لو کے تم جنات میں سے ہو اور جنات میں عقل ہمارے انسانوں کے مقابلے میں قدرے کم ہے. یقین نہیں تو اس کا ریفرنس دکھا سکتا ہوں. اور ادنہ مخلوق والی بات کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم فرقان حکم میں لکھا ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کو مخلوقات میں سب سے افضل اور اشرف بنایا ہے.
رہی بات بابا اور پیر اور جو تم نے سب نام لیے، تو سن لو اللهﷻ کے برگزیدہ، نیک انعام یافتہ بندے ہیں. ان کے مزارات پر جا کر کو سکینت، قرار ، آرام ، امن و سکون ملتا ہے تجھ خبیث کو کیا معلوم. کیونکے یہ وہ الله کے نیک بندے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو مار کر اپنی ہر چاہت کو قربان کر کے الله کی خوشنودی حاصل کی. جس کا ذکر اللہ کریم نے سورہٴ فاتحہ میں بھی کیا ہے. اور ہم ان سے نہیں ماگتے بلکہ اس طرح دعا کرتے ہیں اے میرے مالک جس طرح تم نے اپنے نیک بندوں پر اپنا فضل اور کرم کیا ان کے درجے اور بلند فرما اور ہمیں اپنی جناب سے پاک روزی اور نیک اولاد عطا فرما. ہم سب پر فضل و کرم عطا فرما تجھے تیرے رحیم ہونے کا واسطہ ہے. نہ کے ہمیں عطا فرما ہمارے اعمال کی بنا پر. کیا قرآن میں نہیں صاف صاف بتا دیا کے حرام ہے وہ جانور جس پر غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہو. ہم تو مزار اور درگاہ پر لوگوں کو کھانا کھلانے کی غرض سے نظر و نیاز پیش کرتے ہیں. میرے آقا کریم کا ارشاد ہے کہ تم میں بہتر ہے وہ شخص جو سلام میں پہل کرے اور لوگوں کو کھانا کھلاے.
در حقیقت الله کے نزدیک تُم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تُمہارے اندر سب سے زیادہ پر ہیزگار، متقی اور تقویٰ والا ہے.” (سورۃ الحجرات 13).
اور یہ شوہر اور بیوی والی منطق تم اپنے پاس ہی رکھو یہ “بھی” اور “ہی” والا معاملہ تم شیطانوں اور شیطان صفت مخلوق میں ہی ہوتا ہو گا. اللہ سے ڈرنے والی بیویاں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی. اور شوہر بھی اتنے بیوقوف نہیں ہوتے جو محض کسی سے ہنس کر بات کرنے پر اپنی بیوی پر شک کریں اور اس سے ظلم و زیاتی کریں.
چلو مانتے ہیں کچھ لوگ اس گمراہی کے درپے ہو بھی جاتے ہوں گے وہ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہوں گے کم علمی کیوجہ سے تم شیطان کے وسوسے میں آ کر گناہ کبیرہ کر بیٹھتے ہوں گے تو کیا ہوا توبہ کا دروازہ تو کھلا ہی ہے نہ. مگر تم سب پر ایسے الزام نہیں لگا سکتے.
رہی بات بھائی کی تو سن لو پاک پروردگار فرماتا ہے. اے مومنو اللہ کے دیے ہوے پاک رزق کے مطابق اپنی زندگی گزارو تو جس کو وافر مقدار میں رزق ملے تو وہ شاہانہ زندگی گزارتا ہے جبکے کم روزی والے اپنی استطاعت کے مطابق.
ھاں مگر زکات و صدقات ان لوگوں کو ضرور دینا ہو گی جو صاحب حیثیت ہیں. ہم میں سے اکثر چھپ کر اور مخفی ہو کر لوگوں کی مدد کرتے ہیں. تو رزق کے مطابق شایان شان زندگی گزارنے میں کیا حرج ہے. ھاں فضول خرچی ہرگز نہیں کرنی چاہئے اور اللہ کے دیئے رزق کو اعتدال سے خرچ کرنا اور غربا کا خیال کرنا بے حد ضروری ہے اور وہ ہم مسلمانوں میں سے بیشتر کرتے ہیں. اللہ ان کی نیتوں کو بخوبی جانتا ہے. اور پھر پیارے آقا کر فرمان ہے کے امیر شخص اپنی امارت کیوجہ سے غریب سے تقریباً پانچ سو سال بعد جنت میں جائے گا. چلو یہ تو بتاو تم کھانا کیا کھاتے ہو. مطلب شیطان کو بھی تو کھانے پینے کی ضروت ہوتی ہو گی.
شیطان: کیا خوب کہی اشرف المخلوقات، ہن طنزیہ انداز اپناتے ہوے. وفاداری کی بات کریں تو “اشرف المخلوقات” مثالیں کتے کی دیتے ہیں. جو کے نجس ععیں ہے.
تم مسلمان ہو نہ میرے لئے طرح طرح کے کھانے، پکوان، پھل فراہم کرنے کیلئے. غرض یہ کہ تقریباً سب کچھ جو تم کھاتے ہو اس میں میرا حصہ ہوتا ہے.
شیطان کا کھانا:
اسد: وہ کیسے. مطلب ہم مسلمان کیسے تمھیں کھانا فراہم کرنے کا سبب ہو سکتے ہیں.
شیطان: ویسے تو بڑے بڑھ بڑھ جواب دیتے ہو اور بھول گۓ جو تم میں سے بسم اللہ پڑھے بغیر کھانا کھاتے ہیں اس کھانے میں میرا حصہ بھی ہوتا ہے.
شیطان کی عمر:
اسد: یاد آیا “کھانے سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھنے سے شیطان اس کھانے میں شامل ہو جاتا ہے. “
اچھا اے شیطان مردود ذرا یہ تو بتا تیری عمر کتنی ہو گی تقریباً کتنے سو یا ہزار سال کے ہو گے تم.
شیطان: عمر کی بات تو تم رہنے ہی دو. بلکہ اس کا نام میرے سامنے نہ ہی لو تو اچھا ہے. درحقیقت عمر سے میری نہیں بنتی.
بغض عمر ؓ :
اسد: ھاں عمر ؓ سے تو تمہارا خاص بغض ہے نہ. ویسے وجہ پوچھ سکتا ہوں اس معتبر نام سے بیزاری، بغض اور نفرت کیوں ہے. اصل ماجرہ کیا ہے، کیوں نہیں بنتی، کیوں شیطان ہو کر تم عمر ؓ کے صرف نام لینے سے بھاگتے ہو.
شیطان: بس میں اس کو دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لیا کرتا تھا. اور آج بھی جہاں اس کا نام لیا جائے میں وہاں سے بھاگ نکلتا ہوں. دیکھو ویسے تو ایک طویل لسٹ ہے میری اور اس کے درمیان بغض کی. ان میں سے چند بتا دیتا ہوں.
سب سے بڑی وجہ ترمذی کی وہ حدیت
• “مرے بعد اگر کسی کا نبی بننا مقدّر ہوتا تو وہ عمر ؓ بن خطاب ہوتے.”
• پھر آخری پیغمبر نے ان کو اللہ سے مانگ کر لیا.
• عمر ؓ کے امان لانے پر فرشتوں نے خوشیاں منائیں.
• عمر ؓ محدث امّت مسلمہ ہیں.
• اللهﷻ نے عمر ؓ کی زبان پر حق جاری فرمایا.
• محمّدﷺ کا فرمان کے میرے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی اِقْتِدا کرنا.
• خانہ کعبہ میں سب سے پہلے اسلام کا نام عمر ؓ نے بلند کیا.
• وہ عمر ؓ جس کو اونٹھ ایک قطار میں لگانے نہیں آتے تھے مگر اس نے ٢٢ لکھ مربہ میل کے رقبے پر حکومت کی. اور وہ بھی دس سال چھ مہینے اور دس دن.
• ٣٦٠٠ علاقوں کو فاتح کیا – ٩٠٠ جمعیہ مسجد اور ٤٠٠٠ چھوٹی مساجد بنوائیں.
میں تو عمر ؓ سے ذرا دور ہی رہتا ہوں. بھلا امیر المومین ہو کر کون رات کو گشٹ کرتا ہے کہ لوگوں کو کوئی تکلیف ہو تو دور کر دیں. اور کون پیوند لگے کپڑے پہنتا ہے. تم لوگ اپنے حکمرانوں کا ہی دیکھ لو.
مراد اور مرید:
اسد: ہاں میں جانتا ہوں جناب عمر فاروق ؓ پیارے آقا صلى اللهﷻ عليه وسلم کی مراد ہیں جبکے باقی سب اصحاب ؓ اکرام مرید ہیں.
شیطان: اندر کی بات تو یہ ہے نہ صرف عمر ؓ بلکہ کوئی بھی تم مسلمانوں میں پختہ ایمان والا ہو میں اس سے ذرا گھبراتا ہوں. یہ تمھارے علم میں ہو گا کے ابوبکر ؓ کی کیا شان ہے. ان کا نمبر اصحابہ اکرام میں سرفہرست آتا ہے.
یاد نہیں تمھارے پیارے آقا صلى اللهﷻ عليه وسلم نے کیا کہاتھا. کے ابوبکر ؓ کے سوا میں نے ہر ایک احسان کا بدلہ دے دیا.
ایک تو گمراہ کرتے ہوے وقت کا ضیاء ہوتا ہے. جلدی قابو نہیں آتے. اور اگر کبھی گمراہ ہو بھی جائے تو واپسی ایسی پکّی کرتے ہیں کہ اپنےگناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کرا لیتے ہے. مطلب ٹوٹل ویسٹ اوف ٹائم.
الله کی خوبصورت صفت:
اسد: ایمان کا کوئی پکّا ہو تو وہ رب کریم سے معافی ایسی مانگتا ہے کے وہ رحمن و رحیم رب سزا دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود صرف ایک توبہ پر معاف کر دیتا ہے.
“اللہٰ کی سب سے خوبصورت صفت ہے کہ وہ بااختیار ہو کر مان جاتا ہے. معاف کر دیتا ہے اور گناہوں کو نہیں دکھاتا خوا کتنے ہی کیوں نہ ہوں. ہم مجبور ہو کر، محتاج ہو کر، بےاختیار ہو کر اس کی نہیں مانتے…”وہ مان جاتا ہے۔۔! رد نہیں کرتا. ندامت کو دیکھ لیتا ہے بندگی کو بھانپ لیتا ہے. خوش ہوجاتا ہے، احسان کرتا ہے، معاف کردیتا ہے. پھر اس پاک رب نے سورہٴ رحمن میں بار بار فرمایا… فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ؟ اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے. اب سوچو کتنے احسان ہیں اس پاک پروردگار کے ہم سب مخلوقات پر. جب کبھی ہم اپنی جانوں پر ظلم کر لیتےہیں اور توبہ کرتے ہیں تو بااختیار ہو کر بھی بخش دینا اس رب ظل جلال کے کریم اور غفور رحیم ہونے کی صفات کیطرف اشارہ کرتی ہے.
شیطان: آخر کتنے سال کی زندگی جیو گے جو اتراتے پھرتے ہو. گناہوں کی دلدل میں ڈوبے ہوے ہو. اگر تمہارے آخری نبیﷺ کے مطابق دیکھا جاۓ تو تم لوگ اوسطاً ٦٠ سال تک زندگی پاو گے. ان ٦٠ سال میں سے کتنی عبادت کر لو کے اپنے اللهﷻ کی. دس سال تک تم بچے یعنی زمان طفلی میں رہتے ہو. پھر اسکول و کالج اور یونیورسٹی تمھیں عبادت نہیں کرنے دیتی آخر کیریئر بھی تو بنانا ہوتا ہے تم لوگوں نے. نوکری کے بعد تو تم مسلمان سمجھتے ہو جیسے تم ہی پال رہے ہو اپنی فیملی کو. (مسکراتے ہوے…) پھر شادی کے بعد تو تم عبادت کے قریب بھی نہیں جاتے مطلب ٹائم نکلنا مشکل ہو جاتا ہے اس رب کے لیے جس نے تمام جاناں کو نہ صرف تخلیق کیا ہے بلکہ پال بھی رہا ہے. مطلب وہی تنہا پروردگار ہے.
بچوں کیوجہ سے تمھیں زیادہ وقت رزق روزی کے پیچھے بھگانا پڑتا ہے. تو عبادت کا تو تم نام ہی نہیں لیتے. پھر آخری سالوں میں جب تمہارا رب سجدہ کرنے کی سکت بھی چھین لیتا ہے تب مسجد کا رخ کرتے ہو. اور وہ بھی تم میں سے چند ہی کو خیال آتا ہے.
فضیلت والے اعمال اور شب و روز:
اسد: جز کو قل سے تشبہہ دینا تو کوئی تم سے سیکھے. سب کے ساتھ تو ایسا معاملہ نہیں ہوتا نہ. تم شاہد بھول رہے ہو اس کریم رب نے ہمیں لیلیٰ القدر کی نعمت عطا فرمائی ہے جو ١٠٠٠ مہینے سے بہتر ہے. پھر شب معراج کی فضیلت تم کیا جانو. اسی طرح شب برات، یوم عاشورہ، یوم العرفہ، ماہ رجب، ماہ شعبان، ماہ رمضان، ماہ شوال، اور پھر عمرہ و حج کی فضیلت. پھر رمضان میں عمرہ ایسا جیسے پیارے آقا ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے مترادف ہے. مکّہ میں حرام شریف میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کے برابر ثواب، پھر المدینہ المنورہ میں ایک ہزار نماز کا اجر ملتا ہے. پھر حج کے بعد بندہ ایسا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی پیدا ہوا ہو. پھر تم کیا جانو سرکاردوعالم صلى اللهﷻ عليه وسلم کے روضے پر حاضری کا اجر. جمعه کے دن کی فضیلت، پھر اور ایسے بہت سے انعامات اور احسانات گنوا سکتا ہوں جو میرے کریم رب نے مجھ پر کر رکھے ہیں. اور ہاں استغفار اور درود شریف پڑھنے کی فضلیت کتنی ہے میں بیان بھی نہیں کر سکتا.
اور ہاں اللهﷻ تعالیٰ نے تمام عبادات اپنی مخلوقات پر مقرر کی ہیں مگر ایک عبادت ایسی ہے جو اللهﷻ سبحان و تعالیٰ بھی کرتےہیں. اللهﷻ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے. إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (56) Sūrat al-Aḥzāb
خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو. بعد از خدا بزرگ تو ہیﷺ قصہ مختصر…
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ – بیشک ہم نے آپﷺ کا ذکر بلند کردیا
اور وہ عمل جو ہم مخفی طور پر کرتیں ہیں جو تیرے باپ کو بھی پتا نہیں چل پتا. جس کا صرف اللهﷻ ہی گواہ ہوتا ہے. اس پوشیدہ عمل کا اجر تم مردود کیا جانو. اور ہاں ندامت کے وہ قطرے جو رات کی تنہائی پر اپنے گناہوں کو سامنے رکھ کر ہماری آنکھوں سے نکلتے ہیں. کتنا کریم رب ہے جو اس بات پر بھی قادر ہے کے ہمارے سارےگناہ نیکیوں میں تبدیل کر کے ہمارے دلوں کے رخ کو موڑ دے. جوانی کی عبادت کا کیا کہنا، تم کیا جانو کیا کیا اجر ہے ایک جوان شخص کی توبہ کا.احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے. میں نے آج موقع کو غنیمت سمجھتے ہوے تم سے سوال پوچھنے کی ٹھانی تھی جبکہ تم الٹا مجھ سے ہی سوالات کا سلسلہ شروح کر بیٹھے. آب ذرا دم لو اور طبیعت سے میرے سوالات کا جواب دو.
شیطان: تم شوق پورا کر لواپنا اور پوچھ لو اگر کوئی رہ گیا ہے سوال تو… دراصل میں نے سوالات کا سلسلہ اسلئے شروح کیا تھا کیونکہ تم سارا الزام مجھ پر ہی تھوپ رہے تھے کیا تم یہ نہیں جانتے کے میں صرف اور صرف وسوسہ ڈال سکتا ہوں زبردستی نہیں کر سکتا. یہ تم انسان ہی ہو جو پہلے اپنے اندر ارادہ کرتے ہو نیت کرتے ہو میں تو بس تمھیں حوصلہ دیتا ہوں کچھ نہیں ہوتا.
برائی میں لذت محسوس تم کرتے ہو. حالانکہ چند لمحوں یا چند منٹوں یا کچھ عرصے کی لذت اور عیش و عشرت کیلئے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہو. بڑا نقصان والا سودا کرتے ہو تم لوگ، مطلب ایک ایسی دنیا جو کے عارضی ہے، اسے حاصل کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے ابدی دنیا کو نظر انداز کر دیتے ہو. احمک ہو تم میری نظر میں.
کامیاب اور کمزور لوگ:
اسد: تو پھر دونوں کان کھول کر ذرا غور سے سن لو اے شیطان مردود ہم پیارے آقا ختم الرسول سرکار دوعالم جناب محمّد مصطفیٰﷺکے امتی ہیں اس لئے ہم کو پھر کس بات کا ڈر. ویسے تو الله پاک کی رحمت سے ہم کلمہ گو ہیں انشاللہ جنّت ہی کی امید رکھتے ہیں اپنے رحیم و کریم الله سے اور ہمارا ایمان ہے ہمارے پیارے آقا صلى الله عليه ہماری شفاعت بھی فرمائیں گے. تو پھر ہمیں کس بات کا ڈر. رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا، جامع ترمذی میں ہے. ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امّت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے. اس دعا کا فایدہ انشاللہ امّت کے ہر ایک شخص کو حاصل ہو گا جس نے مرنے سے پہلے اللهﷻ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہو گا.
اگر کسی وجہ سے کوئی تھوڑی بہت سزا ملی بھی یا کچھ ہلکے پھلکے کان گرم کرنے کی نوبت آ ہی گئی تو آخر میں تو جنّت پکّی ہے. اب تم اپنا حساب لگا لو تمہارا کیا حال ہونے والا ہے اے شیطان مردود.
کہتے هیں “معافی” اور “توبه” کی توفیق بهی مقدر والوں کو ملتی هے. ورنه آنکهوں په لوهے کے پردے اور کانوں میں سیسه پگهلا دیا جاتا هے اور سوچنے سمجهنے کی صلاحیتیں سلب کرلی جاتی هے. لیکن ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ، الله ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ توبہ کا در ، ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻕ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ نعمت كى ناشكرى زوال کا آغاز هے اوراستغفار کى كثرت عروج کا آغاز هے.
کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں. اور کمزور لوگ دنیا کے ڈر سے اپنے فیصلے بدلتے ہیں. ہم مسلمانوں کے قصّے شاہد سن نہیں رکہے تم نے.
ہم میں سے ہی ہیں وہ خالد بن ولیدؓ، طارق بن زیادؒ، سلطان محمود غزنویؒ، نورالدین زنگیؒ، صلاح الدین ایوبیؒ، سلطان ٹیپوؒ اور محمد بن قاسمؒ اور ہم ہی ان کے وارثوں میں سے ہیں. ۔۔۔!!!
تاریخ شاہد ہے ، ہم طاقت میں اپنے سے کئی گنا پر غالب آئے ہیں.
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمة الله فرماتے ہیں:
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دے گھوڑے ہم نے
اچھا اگر ہو سکے تو تمھارے یعنی شطان کے بڑے بڑے فتنے کون سے ہیں. اگر تفصیل سے بتا دو تو بہتر ہے.
شیطان: سب نام جو گنواے مان لیتے ہیں مگر وہ تو تمھارے آب و اجداد میں سے تھے مگر تم کیا ہو. آجکا مسلمان ورزش، سپورٹس اور حتکہ جنگ بھی سمارٹ فون پر کرتا ہے. زوردار ہنستے ہوے.
اچھا تو کیا وہ یاد نہیں جو تمھارے ہی شاعر مشرق نے جواب شکوہ میں جواب دیا تھا.
کوئی قابل ہو تو ہم شانیں کئی دیتے ہیں
دھنڈنے والوں کو دنیا بھی نہی دیتے ہیں
تم جسقدر قابل ہو یہ راز کسی سے پوشیدہ نہیں. ہاں مانتے ہیں تمھارے اجداد میں سے بہت سے اس معیار پر اترتے تھے. مگر تم کیا ہو. مطلب ابتک کے سب سے برے لوگوں میں شمار ہوتے ہو تم لوگ. اب تم لوگوں پر مجھے زیادہ محنت نہیں پڑتی کیونکے اب تم تیار ہو چکے ہو. تم میں سے کچھ ایسی حرکتیں کرتے ہو کے میں یعنی شیطان بھی سوچ میں پڑ جاتا ہے. مطلب وہ مکاری سکھ چکے ہو جو شیطان کے ذھن میں بھی نہ ہو.
یہ تمہاری خام خیالی ہے جو سمجھ رہے ہو کے مجھ سے فتنے پوچھ کر سب کو بتا دوگے تو تم اور دوسرے لوگ میرے وسوسوں سے بچ پائیں گے. اب تم لوگ اتنے کمزور ایمان والے ہو چکے ہو کہ میری چالیں، فتنے یا وسوسوں کا پتہ ہونے کے باوجود تم گناہ سے نہیں بچ سکتے.
ویسے تو تم مجھے زیادہ کچھ عقلمند نہیں سمجھتے لیکن تم سب عقلمندوں کو میں نے گمراہ کر رکھا ہے. اور جہاں تک میرے خاص ہتھکنڈوں کی بات کرتے ہو تو چند ایک بتا دیتا ہوں کیا یاد کرو کے کس سے پالا پڑا ہے.
جوانی چار دن کی ہے… بڑا ہی کمال کا وار ہے تم مسلمانوں پر. تم لوگ میرے اس فتنے میں خود با خود پھنس جاتے ہو کیونکے بظاھر تو سب یہی سمجھتے ہیں ابھی جوانی ہے عیش کر لیں بعد میں توبہ کر لیں گے. تو کیا تم میں سے ہر کوئی جوان آخری عمر تک زندہ رہتا ہے.
مخلوط تعلیم … مرد اور عورت کا ایک جگہ ہونا، اب یہ اخلاط حصول تعلیم کے وقت بھی ہو سکتا ہے اور عملی زندگی میں ایک ساتھ کام کرنے سے بھی. جہاں تنہائی میں مرد اور عورت ہو تو تیسرا وہاں شیطان ہوتا ہے. پرورگار نے مرد اور عورت کے درمیان عمومی طور پر کشش رکھی ہے. خلق کے اعتبار سے تو دونو ایک ہیں مگر چونکے خصوصیات مختلف ہیں لہٰذ نہ چاہتے ہوہے ایک دوسرے کیطرف راغب ہونا کوئی بہت بڑھی بات نہیں. اب میں نے تم سب کے زہنوں کو موڈرن زندگی کا بہانہ دے کر اسے اچھائی بتایا اور تم میری باتوں میں آ گئے. اب جنسی انتشار تو بڑھنا ہی ہے.
مسلمانوں میں خودغرضی … تم کو اس بات پر آمادہ کرتا ہوں کے صرف اپنی فکر کرو. جس کسی پر ظلم ہو رہا ہے ہونے دو. جب تم پر کوئی آفت یا مصیبت آےگی تو اس وقت دیکھ لیں گے. یونہی دوسروں کے بارے میں سوچ کر حلقان ہونے کا کیا فائدہ. ایک وقت تھا جب تم ایمان کے پہلے درجے یعنی ہاتھ سے ظلم کو روکتے تھے. پھر وہ وقت تھا جب تم مسلمان دوسرے درجے تک پنچے اور زبان سے روکتے تھے. اب یہ حال ہے تم مسلمانوں کا کہ دل سے بھی برا نہیں مانتے. جوکہ ایمان کا سب سے آخری درجہ ہے.
بےاولادی پر شرک کرنا … ایمان کے کتنے ہی بڑے درجے پر ہو. جہاں اولاد کا معاملہ آتا ہے تم لوگ بے بس ہو جاتے ہو. پھر کسی بابا جی کے مزار پر اور نظر و نیاز کا ماننا. پھر نہ جانے کیا کیا خرافات تم لوگ کرتے ہوں. اور کہتے ہو ہم مواہد ہیں. اگر یہ شرک نہیں تو بولو اور شرک ہوتا کیا ہے.
مال و زر کی طمع … رب کے دیے ہوے مال میں سے اگر کسی غریب رشتہ دار کی مدد کرنا مقصود ہو تو تمہارا دل چونٹی کے دل جتنا ہو جاتا ہے. سوچتے ہو میرا مال کم ہو جائے گا. اور جب رب نے مجھے دیا ہے تو میں اس کو کیوں دوں. حالانکہ تمھیں کو چار چاند نہیں لگے تو رب نے تمیں اتنے مال سے نوازا. وہ مالک کبھی زیادہ مال دے کر تمھیں آزماتا ہے اور تم سمجھتے ہو یہ مال کی ریل پیل تمہاری عقلمندی اور قابلیت کی وجہ سے ہے.
رزق حرام … کبھی جو رب تنگدتی سے آزما لے، پہلے تو میں تم لوگوں کو رب سے شکوہ اور شکایت کا وسوسہ ڈالتا ہوں اور جب تم گستاخی کی طرف راغب ہو جاتے ہوں تو پھر حرام کا مال کمانے کا مشورہ دیتا ہوں اور یہ وسوسہ زیادہ تر تمہاری بیویوں کیطرف سے ڈالتا ہوں. ویسے تم اس ضمن میں اپنے آپ کو پاک صف نہ ہی سمجھو تو اچھا ہے کیونکے تم بھی مجھے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی دراصل تم لوگ اپنی بیویوں کی بات کچھ زیادہ ہی مانتے ہو صرف اسی لیے. جیسے ہی میں شیطان تم مردوں کو تنگدستی کا خوف دلاتا ہوں تم تو پہلے ہی جیسے تیار ہی بیٹھے ہوتے ہو.
خلق خدا سے ہمدردی کا فقدان … جیسے ہی تم مسلمانو کے دلوں میں کسی دوسرے کی ہمدردی کا خیال آتا ہے تو میں شیطان فوراً وسوسہ دال دیتا ہوں ارے میاں چھوڑو دنیا کو تم اپنے گھر کو سنوارو. بھلے ہی کوئی ظالم کسی غریب، نادار، کمزور اور بے سہارا کے ساتھ زیادتی کرتا ہے. میں تم لوگوں کا رخ کسی دوسری جانب موڑ دیتا ہوں. اب تم لوگ اتنے بےحس ہو چکے ہو جبتک کوئی سانحہ تمھارے خود پر نہیں گزرتا تم لوگ اندھے، بہرے اور گونگے بن جاتے ہو.
اللهﷻ اور رسولﷺ سے جنگ … تم ایک حقیر مخلوق اور دشمنی اور جنگ کرنے چلے ہو اللهﷻ اور رسولﷺ سے. اب میں نے تم سب کو اسی وسوسے میں لگا دیا ہے کہ کچھ بھی ہو سود کے بغیر تم نہ تو کاروبار کر سکتے ہو اور نہ ہے ایک عام شخص سود کے بغیر رہ سکتا ہے. سود کا لینا یا دینا اتنا بڑا گناہ ہے کے مجھے بتاتے ہوے برا لگا رہا ہے اور شرم بھی آ رہی ہے. بہرحال بہت اچھا حربہ ہے تم مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا اور میں اس میں بہت حد تک اپنے اپ کو کامیاب سمجھتا ہوں.
دم درود اور تعویزات … تم لوگوں کے عقیدے کا بیڑہ غرک کرنے کا سب سے آسان طریقہ تم مسلمانوں کو دم درود اور تعویزات پر لگانا. دیکھو ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور پیسہ بھی، وقت کا ضیاء الگ سے اور آخر میں نتیجہ لاحاصل… ویسے تم مسلمانوں کو بیواقفوں کے سردار بھی کہا جائے تو کم نہ ہو گا. اچھا اگر دم درود سے اپنی اچھائی مقصود ہو تو بھی قایل ستائش ہو سے مگر تم تو دوسروں کا برا کرنے کیلئے وقت ضائع کرتے ہو. بس ایک بات تم کو یا تمہاری خواتین کو اس طرف لگا دو تو پھر میرا کام ختم. ایسی عقل کی پٹی پڑھ جاتی ہے پھر بھلے کوئی بیگانہ ہو یا اپنا، تم اسکو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے.
لاعلمی … تم میں ہرکوئی سمجھتا ہے اس سے بڑا علم والا کوئی نہیں. حالاکہ حقیقت اس سےبلکل برعکس ہے. تم لوگ سمجھتے ہو جب تک اللهﷻ تم کو کھلے پیسےنہی دے گا تم صدقہ نہیں کر سکتے.
ﺻﺪﻗﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﺎﻝ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﺻﺪﻗﮧ ﮐﮩﻼﺗﺎ ھﮯ. ﺩﻋﺎﺀ، ﻋﻠﻢ، ﻣﺸﻮﺭﮦ، ﻣﺴﮑﺮﺍ ھٹ، ﻣﺪﺩ، ﻭﻗﺖ، ﺗﺮﺑﯿﺖ، ﻣﺸﮑﻞ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺻﻠﮧ، ﻧﯿﮑﯽ ﮐﯽ ﺗﺮﻏﯿﺐ، ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﻨﺎ، ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ، ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ، ﻋﺰﺕ ﺩﯾﻨﺎ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ھوﻧﺎ، ﺗﯿﻤﺎﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ھﭩﺎﻧ غرض یہ کہ مسلمان بھائی کیطرف مسکرا کردیکھنا بھی صدقہ ہے. اگر پریشانیاں، تکلیفیں اور مصیبتیں آئے روز دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں
تو یہ بھی اللّٰہ پاک کی طرف سے ایک اشارہ ہے کہ “صدقہ” کرو. کہیں ایک پودا لگا کو وہ بھی صدقہ ہے. صحیح بخاری میں رسولﷺ نے فرمایا “ہر نیکی صدقہ ہے.” پیسے نہیں ہوتے تو کوئی نیکی کر دیا کرو.
سستی اور کاہلی … زیادہ اور رات دیر تک کھانا اور بغیر کھانا ہضم کیے سو جانا. تم مسلمانوں نے سنت پر عمل کرنا تو کیا بھلا دیا کہ عشا کے بعد سونا اور صبح نماز کیلئے اٹھنا ہے. “جلدی سونا اور جلدی جاگنا انسان کو صحت مند، دولت مند اور عقل مند بناتا ہے”. جلدی جاگیں گے تو فجر کی نماز با جماعت مل جایگی، وقت پر عبادت کریں گے اور تھوڑی سی چہل قدمی کریں گے تو صحت بہتر ہوگی صحت کی بہتری عقل کی نشانی ہے اور وہ رازق جو تمام کائنات کو رزق بانٹا ہے ہمارے رزق میں بھی اضافہ کرے گا.
خیر اور بھی بہت کچھ ہے میرے پاس تم لوگوں کو گمراہ کرنے کو مگر کچھ وسوسوں کی پردے داری ہی رہنے دو.
عزازیل سے شیطان مردود کا سفر:
اسد: بڑ اعلم رکھتے ہو شیطان مردود. ہاں میں اس بات سے باخبر ہوں تم نے صرف اللهﷻ کی ایک بات نہیں مانی. تکبر کیا اور آج عزازیل سے مردود بنےبیٹھےہو ورنہ تم جیسا عالم و زاہد جوجن ہوکرفرشتوں کا سردار بن گیا تھا. یہی بات میں تم کوسمجھنےکی کوشش کر رہا ہوں. مگر تم رہے نہ خبیث اور شیطان مردود. تم کہاں سمجھو گے.
بہرحال ہم مسلمان ہر حال میں تم شیطان سے بہتر ہی ہیں. ہمیں زندگی میں خوشی، کامیابی، مسکراہٹ، سکون اور محبت جینا نہیں سکھاتی جبکے غم، ناکامی، رونا، اداسی، بے سکونی اور نفرت زیادہ اچھا سبق سیکھا جاتی ہے اس لیے ہم مسلمان ان سب سے پریشان نہیں ہوتے. اللهﷻ پر توقل کرتے ہوے کامیابی پر جا کر ہی روکتے ہیں. اور اگر کسی وجہ سے ہمیں اس عارضی دنیا میں کوئی نعمت نہ بھی ملے تو ہماری نظر آخرت پر ہوتی ہے. خیر تم کیا جانو توقل کیسے کہتے ہیں. قناعت کس نعمت کا نام ہے. زندگی بہت مختصرسی ہے. ہم سب خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ ہمارے اپنے لئے آسانیاں پیدا ہوں. چھوڑو اور یہ بتاو تمہارا حالیہ پروگرام ہے کیا؟ اور آجکل کس مشن پر کام کر رہے ہو.
شیطان: تمہاری طرح میرے ارادے کشمش کا شکار نہیں رہتے. آج بھی میرا مقصد تم لوگوں کی بربادی ہے اور یہ مقصد پہلے دن سے آخری دن تک بدلنے والا نہیں ہے. میرا پروگرام بڑا ہی کلیر ہے. تم لوگوں کی اللهﷻ سے ناراضگی کرانا. مطلب جنّت جانے سے روکنا اور جہنم میں پھنچانے کا انتظام کرنا. میرے اس دعوے میں تمھیں کوئی شک ہونا بھی نہیں چاہیے تم لوگوں کے جد امجد یعنی تمام نسل انسانی کے باپ آدم علیہ السلام و حوا علیہ السلام کو پہلے ہی جنّت سے نکلوا کر اپنی پرفارمنس دکھا چکا ہوں. (مسکراتے ہوے.)
دیکھو اپنا مشن بہت سادہ ہے انسان جنّت میں نہ جائے، انسان خدا کی نافرمانی اور کفر کرے، شرک کرے، زمین پر خون ریزی کرے، خوب لڑائی جھگڑے کرے، گلی گلوچ بکے، حقوق اللهﷻ اور حقوق العباد ادا نہ کرے، تتیم کا مال کھاتا رہے، خواتین کی ابروریزی اور ظلم کا بازار گرم کرے اور ہاں ماں باپ کی نافرمانی کرے غرض یہ کے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے اللهﷻ راضی ہو اور اپنے بندے کو جنّت میں داخل کرے.
اللهﷻ کا فرمان:
اسد: اے شیطان مردود تو جو بھی کر لے جتنا بھی گمراہ کر لے. کیا تجھے اللهﷻ کا فرمان یاد نہیں. جب اللهﷻ رب عزت نہ فرمایا جو میرے بندوں ہوں گے تو ان کو گمراہ نہیں کر پاے گا. اور جب تم نے کہا میں تیرے بندوں کو اسوقت تک گمراہ کرتا رہوں گا. جبتک اسکے جسم میں جان باقی رہے گی. اور کیا تمیں یاد نہیں اس کے جواب میں اللهﷻ رب الاعزت نے فرمایا تھا. میری عزت و جلال کی قسم! میں اپنے بندوں کی اس وقت تک مغفرت کرتا رہوں گا جبتک وہ مجھ سے مغفرت اور بخشش مانگتے رہیں گے.
شیطان: میں شیطان ہوں کوئی انسان نہیں جو سچی بات سے مُکَر جاوں. گوکہ مجھے سچی بآتیں کر کے شاہد نقصان ہی ہو گا. بہت سے راز تم کو پتا چل جاییں گے. لیکن کچھ پروا نہیں جب اوکھلی میں سر دیا ہے تو موسلوں سے کیا ڈرنا. ہاں بلکل سچ کہا تم نے بات تو کچھ ایسی ہی ہے جو تم نے کہی. ہاں مگر کیا تم اپنے آخری پیغمبرﷺ کی وہ حدیث بھول گے. “شیطان انسان کے جسم میں خون کیطرح دوڑتا ہے.” گناہ برا ہے برا ہے گناہ کہے جا رہےہو کیے جا رہے ہو. ‘ مرض ” ” محبت ” اور” موت ” نا ہوتی تو حضرت ” انسان ” نے کہاں قابو آنا تھا. امیر تو امیر تم غریب مسلمان خودسر ہوے بیٹھےہو. سب پتا ہے ماں باپ کا رتبہ کیا ہے. مگر عقل جیسے گھاس چرنے چلی جاتی ہے تم لوگوں کی. عقل کے اندھو ماں باپ کیطرف دیکھ کر مسکرایا کرو… کیونکہ ہر کسی کے نصیب میں حج و عمرہ كو جانے کے وسائل نہیں ہوتے.
چلو اب یہ بھی بتاتا چلوں کہ تقریباً زیادہ تر کام میں تم لوگوں کے خراب کرتا ہوں غصّہ دلاکر. ایک بار غصہ آ جائے پھر تمیں چھوٹے بڑےکی پہچاں کہاں رہتی ہے. بس اب تو خوش ہو تم آج میں نے اپنے کافی ہتھکنڈے بتا دیے ہیں جن سے میں تم لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہوں.
عشقِ خاتم النبیین محمّد مصطفیﷺ:
اسد: کیسی باتیں کرتے ہو ہم کیسے بھول سکتے ہیں. اور وہ بھی حدیث رسول ﷺ.
تم کیا جانو حبیب خدا کا مرتبہ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ خدایا عشقِ خاتم النبیین محمّد مصطفیﷺ میں وہ مقام آئے کہ سانس بعد میں پہلے نبیﷺ کا نام آئے.
شیطان: یہی ایک عمل ہے جو اب تم مسلمانوں کو ملا بھی سکتاہے اور بچا بھی سکتا ہے. اور میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے کے تم بھول گے ہو کے اگر آج بھی تم ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہو تو وہ صرف اور صرف ختم الانبیا ﷺ کے نام پر ورنہ اب تم لوگوں کے پاس بچا ہی کیا ہے. تم لوگوں میں تو کچھ شیطان کو مشورہ دینے کے قابل ہو چکے ہیں. طنزیہ انداز اپناتے ہوے. جس دن تم نے دنیا سے چھپ کر کرنے والے گناہوں کو چھوڑ دیا اس دن ان گناہوں سے خود بخود تمہاری جان چھوٹ جائے گی جو تم سے دنیا کے سامنے سرزد ہو جاتے ہیں-
اور ہاں یہاں تم مسلمانوں کو بتاتا چلوں تم لوگ بہت ہی خود غرض ہو.
جب کسی کو پسند کرتے ہو تو – اس کی برائی بھول جاتے ہو اور جب نفرت کرتے ہو تو اچھائی بھول جاتے ہو!! یقین مانو تم سے بڑا خود غرض نہ کسی مخلوق میں ہوگا اور نہ کسی قوم میں.
شیطان کی خواہشیں:
اسد: اس سے بڑی کرم نوازی کیا ہو گی کہ میرے اللہ نے مجھے اپنے محبوب محمّدﷺ کا امتی بنا کر بھیجا.
اور ہاں میرے حساب سے اب تم فضول باتیں کرنا شروع ہوگے ہو. چل اے شیطان مردود ایک اور انفارمیشن شیئر کرو اگر میں پوچھوں کے اللهﷻ رب ال عزت کے دربار سے روندہ درگاہ ہونے کے بعد تیری کیا فیلنگز تھیں مطلب کس کفیت سے دوچار تھے. آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کو تو نے شجر کا پھل کھانے کے لیے وسوسہ ڈال ہی دیا تھا. اسوقت تیرے ذھن میں کیا چل رہا تھا مطلب اپنے انجام کا پتا تھا. اب دیکھو حضرت آدم اور حضرت حوا علیہ السلام سے تو خطا ہو گئی مگر وہ اس پر نادم ہوے اور اپنے الله سے کچھ کلمات سکھ کر معافی مانگ لی اور اس کریم رب نے معاف بھی کر دیا. یہ ہوتا ہے ایمان، مخلوق کا خالق سے بھلا کیا مقابلہ. مگر دوسری جناب اپنے اپ کو دیکھ لو اپنے خالق کے سامنے سرکشی اختیار کر لی تو نے. بڑے ہی احمق ثابت ہوے ہو تم.
شیطان: جب میں نے سوچا اب پہلے والی پوزیشن واپس ملنا ممکن نہیں تو بارگاہ خدا وندی میں پیغام بھجا. اے پروردگار میں نے ہزاوں سال تیری عبادت کی. میری ان تمام عبادتوں کا اجر مجھے ابھی عطا فرما دے.
بارگاہ رحمت سے ارشاد ہوا بول ابلیس کیا چاہتا ہے.
یکاہک میں یعنی شیطان بولا چار خوائشیوں کی تکمیل ہو جائے تو بات بنتی ہے.
١. مجھے اس دن تک مہلت دی جاۓ جب تک انسان دوبارہ قبروں سے نہ اٹھا لیے جاییں. رب کائینات نے فرمایا تجھے مہلت ہے اس دن تک.
٢. دنیا کے ہر انسان کو گمراہ کرنے کی قدرت پاؤں. رب کائینات نے فرمایا یہ بھی منظور ہے.
٣. میری اولاد بہت ہی زیادہ ہو تاکہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتے ہوے میں اپنا مشن پورا کر سکون. رب کائینات نے فرمایا یہ بھی منظور ہے.
٤. جس شکل اور روپ میں چاہوں اپنا وجود تبدیل کر لوں جیسا بھی چاہوں حلیہ اختیار کر سکون. پروردگار نے فرمایا تو جس شکل میں چاہے اپنے وجود کو تبدیل کر سکے گا. لیکن میرا ایک محبوب ختم الرسل محمّد مصطفیٰﷺ جس کا ظہور میں تقریباً آخری زمانے میں کروں گا. تو کبھی بھی میرے محبوب کا روپ نہیں دھار سکے گا.
پیارے حبیبﷺ کی سچی محبت:
اسد: رب کریم نے تمہاری تمام خواشیں پوری کیں. اب تم نے جو کرنا ہے کر لو میرا رب بڑا کریم ہے. میں آج اپنے رب سے تہے دل سے معافی مانگتا ہوں. اللهﷻ پاک ہم تمام مسلمانوں کی توبہ قبول فرماے اور جو اس عالم دنیا سے عالم برزخ میں جاچکےہیں. اللهﷻ ان تمام مسلمانوں کی مغفرت فرماے. آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن.
بس میری یہی دعا اللہ تعالی ہمارے دلوں سے کینہ، بغض، حسد، نفرت، کدورت، عداوت اور دنیا کی محبت نکال کر اپنی اور اپنے پیارے حبیبﷺ کی سچی محبت عطا فرماۓ. پھر تمہارا باپ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا. ہم اس بات سے با خبر ہیں. رب العالمین تک پہنچنے کے لئے رحمت العالمین کی پیروی ضروری ہے. اور ہم جانتےہیں جب کبھی ہم مسلمانوں پر مصیبت آن پڑے تو تین چیزیں مصیبت کو دور کرتی ہیں
دعا کرنا … “اگر تم (اللهﷻ سبحانه تعالى) کو نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا” (القرآن)
نعمتوں پر شکر کرنا … “البتہ اگر تم شکر ادا کرو تو میں ضرور تم کو زیادہ دوں گا” (القرآن)
کمزوروں کی مدد کرنا … رسول اللهﷺ نے فرمایا: “تم اپنےکمزوروں کی بناء پر مدد اور رزق دیۓ جاتے ہو”
ﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺛﯿﺮ “ﻃﻠﺐ” ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺧﯿﺮ “ﺑﮩﺘﺮﯼ” ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. اور ہم اپنے رب کے دیے پر خوشی خوشی رہنے کا ہنر جانتے ہیں. کیا ہوا جو یہاں نہ مل سکا. سب کچھ اسی دنیا میں مل گیا تو جنّت میں نعمتوں کا مزہ کہاں رہے گا.
شیطان: یوں لگتا ہے سب کچھ جانتے ہوے انجان بنے بیٹھے ہو. جب یہ سب جانتے ہوتو عمل کرتےوقت کیا موت پڑتی ہے. ہر وقت پیسےکےپیچھے بھاگتے رہتےہو. جبکے تم سب کو رزق میں فراوانی کے طریقے بتا دیے ہیں. وضو میں رہو. فرائض ادا کرو. گھرمیں داخل ہوتے وقت اسلام و علیکم کہو. تین بار سوره اخلاص پڑھو. صلاح رحمی کرو اور صبح جلدی اٹھنےکی عادت اپناؤ. اور وقت پر شادی کرو بس اور کیا… تم مردوں کا بھی عجیب ہے.اچھی خوبصورت نیک پاکیزہ عورت بیوی صورت میں مل جائے تو وہ تمھیں نظر نہیں آتی ، اور جوعورت نہ مل سکے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا. ہنستاکھیلتا گھر برباد کر لیتے ہو. رب کا شکر ادا نہیں کرتے تم جیسے لنگور کو حور مل جاتی ہے. مگر تم کو تو عادت ہے نہ گند میں ہاتھ ڈالنے کی. حلال جو تیرےنصیب میں لکھا ہے اس پر تو تم استفادہ کرنے سے رہے. یاد رکھو خدا وہ انسان نہیں دیتا جسے تم چاہتے ہو. بلکہ وہ دیتا ہے جسکی تمھیں ضرورت ہے. اور یہ رب سے بہتر کون جان سکتا ہے. خیر صنف نازک بھی ناک میں دم کرنا کہیں بند کریں توتم مردوں کو کچھ آرام نصیب ہو. تم میں سے ہر مرد بس یہی خواہش رکھتا ہے کہ وہ عورت کی زندگی کا پہلا مرد ہو. جبکہ دوسری طرف ہر عورت بس یہی خواہش رکھتی ہے کہ وہ اپنے مرد کی آخری عورت ہو.
ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺳﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭩﺎﺋﯽ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺳﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭩﺎ لی.
اب بحث یہ نہیں کے مرد اپنی نگاہ کی حفاظت کرے یا عورت پردے کا اہتمام کرے. تم مسلمان بحث اس بات پر کرتے ہو کے مرد و عورت میں غلط کون ہے. ہاں یہاں ریفرنس کیلئے بتاتا چلوں عورت کا اصل دائرہ عمل اس کا گھر ہے، اگر وہ گھر میں اپنے جوہر دکھانے میں ناکام ہے تو باہر سے سمیٹی ہوئی کوئی بھی کامیابی اسے تسکین نہیں دے پائے گی. ہم سب ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں، عبادتیں بھی، محبتیں بھی اور نفرتیں بھی۔ تو عورت کو اپنی ماں سے ہر گر سیکھنا ہوتا ہے. اب ایسے میں اگر کسی لڑکی کی شادی ناکام ہو جاتی ہے تو الزام اسکی ماں پر ہی آتا ہے بھلے ہی اس نے دل و جان سے اپنی بیٹی کی پرورش کی ہو. میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا واحد رشتہ ہے. جسے اللہ تعالی نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا اور کسی رشتے کو اللہ نےاپنی نشانی نہیں کہا کیونکہ یہی رشتہ معاشرے کی بنیاد ہے.
سمجھے نہ شکرے انسان جب تم مصروف تھے بریانی میں نقص نکالنے میں، کچھ لوگ سوکھی روٹی پہ رب کا لاکھوں شکر ادا کر رہے تھے. لیکن اے بےحس, بےقدر اور ناشکرے مسلمان تم کیا جانو جب بچے بھوکے سوتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے.
رمضان کی فضیلت اور شیطان کی پکڑ:
اسد: اللہ پاک تمام میاں بیوی میں حقیقی محبت عطا فرمائے اور تم جیسے شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن.
بات کا جواب دینا مقصود تھا تم تو تقریر کرنے لگے. اچھا کیا سچ ہے ماہ رمضان میں تم زنجیروں سے جکڑ دیے جاتے ہو . اور ہاں جواب ذرا مختصر دینا. واصف علی واصف صاحب فرماتے ہیں زیادہ بولنے والا مجبور ہوتا ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ کو ملا کر بولے. تو تم سے کچھ بعید نہیں تم جو کہ رہے ہو اس میں جھوٹ کی کتنی ملاوٹ ہے.
شیطان: گویا بڑے چالاک ثابت ہوےہو واصف علی واصف صاحب کی کہی بات میں “انسان” کا لفظ ہی کاٹ دیا. اصل انکا کہا جملہ کچھ یوں ہے. “زیادہ بولنے والا انسان مجبور ہوتا ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ کو ملا کر بولے”
رہی بات رمضان کی تو ہاں میں مانتا ہوں جب رمضان آتا ہے تو مجھے زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے. مگر تم لوگ تو آزاد گھوم رہے ہوتےہو تم لوگ تو قید نہیں ہوتے میں اطمینان سے رمضان کا ایک مہینہ جیسے تیسے گزار لیتاہوں. کیونکے تم مسلمان اب اپنے نفس کے پجاری بن چکے ہو کچھ نہ کچھ تو گناہ کر ہی دیتے ہو. ہاں میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں ماہ رمضان میں اوسطاً گناہ کم ہوتے ہیں. جب تم لوگ بھوکے رہو کے تو کیا خاک گناہ کی طرف راغب ہو پاؤ گے. خیر باقی ١١ مہینوں کی ٹریننگ پھر بروکار آتی ہے. دیکھو میں شیطان تمھارے نفس پر حملہ کرتا ہوں پھر تمہارا نفس تمھیں ورگلاتا ہے تب تم گناہ پر آمادہ ہوتے ہو. اب ماہ رمضان میں شیطان وسوسہ نہ بھی ڈالے اور شیطان حملہ نہ بھی کرے تب بھی تم میں سے اکثر اپنے نفس کی مان کر گمراہ ہو ہی جاتے ہو. پھر رمضان کا چاند کیا نظر آیا اور یہ گیا وہ گیا تمہارا رمضانی تقویٰ. اور چاند رات کو جب بازار خوبصورت اور نوجوان خواتین شوپنگ کو جاتی ہیں تو خوب آنکھوں کی برائی اور نہ جانے کیا کیا کرتے ہو تم مسلمان.
احمکو ذرا بتاو دنیا کے کس حصّے میں دشمن کے آزاد ہونے پر دشمن کے پسندیدہ کام سر انجام دئیے جاتے ہیں. سوچ کے ولی اور دل کے کافر تم دوچہرے رکھنے والے مسلمان.
ہاں مگر تم میں سے کچھ بڑے پکے مسلمان ہوتے ہو. مطلب میں اپنی ساری شیطانیت آزما لوں تب بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے. پتہ نہیں کس مٹی سے بنے ہوتے ہیں یہ کچھ لوگ. مگر زیادہ خوش نہ ہونا وہ بس چند لوگ ہی ہوتے ہیں.
خالق اور مخلوق:
اسد: اللہ پاک کی قربت کا بہترین راستہ عاجزی ہے اللہ پاک ہمیں عاجزی، انکساری، درگزر اور توبہ کرنے والوں میں شامل فرمائے آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن. رمضان سب سے بہتر مہینہ ہے اللهﷻ پاک کا قرب حاصل کرنے کا. تو جو اللهﷻ کے قریب ہو جانے وہ بھلا تجھ ملعون کے بہکاوے میں کیونکر آئگا.
“اللَّھُمَّ اَجِرنِی مِنَ النَّارِ” – “اے اللہ ہمیں جہنم کی آگ سے بچانا” ہم تو اللهﷻ سے یہ دعاء مانگ کر اس بات کا برملا اقرار کرتے ہیں کے ہم مسلمان کمزور ہیں اللهﷻ کے محتاج ہیں اور اس پاک اللهﷻ کریم سے مغفرت طلب کرتے ہیں. جیسا ہمارے باپ آدم علیہ السلام نے بھول ہونے پر اللهﷻ کی سکھائی ہوئی یہ دعاء مانگی.
رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخٰسِرِينَ
اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
لیکن ملعوں یہی فرق ہے تم شیطان اور ہم میں. ہم بھول جانے پر اور غلطی کرنے پر رب کریم سے مغفرت طلب کرتے ہیں جبکہ تم تکبر سے اکڑ جاتے ہو. ویسے تم نے کبھی سوچا خالق اور مخلوق کا بھی کبھی مقابلا ہو سکتا ہے.
جب اولاد اپنے ماں باپ کا مقابہ نہیں کر سکتی جس نے اسباب کی حد تک اپنی اولاد کو پیدا کیا ہوتا ہے اور تم مقابلہ کرنے چلے اس اللهﷻ سے جو رب العلمین ہے.
شیطان: میرا مقابلا تمہں بہت اچھے سے یاد ہے اور تم جو اللهﷻ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کرتے ہو. دن رات اللهﷻ کی نافرمانی اور حبیب الله کی سنت سے انکار. عاشق رسولﷺ تم سے بڑا کوئی نہیں ہاں مگر حبیب خدا کی اطاعت کرتے ہوے موت پڑتی ہے بلکہ پشیمان تک نہیں ہو اس گناہ پر. البتہ حبیب خدا تمہاری شفاعت کریں گے اس بات کا کامل یقین رکھتے ہو.
ہر جگہ اپنا خود کا حساب لگا کر بیٹھے ہو. ہر ہر جگہ جگاڑ نہیں چلتی کون سمجھاے تم مسلمانوں کو. بھئی جب حجرے اسود کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا تو پھر یہ فیروزے اور عقیق جیسے پتھروں کی کیا حیثیت ہے. کیا یہ سزا کافی نہیں ہے تم مسلمانوں کے لئے کہ اللہ تمہیں سب دے کر بھی سجدوں کی توفیق نہیں دیتا.
دنیا جہاں کا خوش نصیب شخص:
اسد: شیطان مردود ہو کر تم ایسی کیفیت میں کبھی نہیں آ سکتے کہ:
رات کی تاریکی ہو، خاموشی کے عالم میں جب زبان کی لڑکھڑہٹ کے ساتھ کھوکھلے اور ٹوٹے ہوۓ الفاظ اور جزبات کے ساتھ اور آنکھوں کے کھارے پانی سے جب اللہﷻ سے اپنے دل کی صفائی کے لیے منتیں کرو اور فقط اس خدا یکتا سے دعا مانگو تو ایسے لگتا ہے کہ اللہ تو صرف میرا ہے اور بس صرف مجھے ہی سن رہا ہے. اور پھر محبوبﷺ کا امتی ہونے کا واسطہ دو تو یوں لگتا ہے اس جہاں کا سب سے خوش نصیب سخص ہوں.
یہ امتیاز صرف اک مسلمان کو ہی حاصل ہے کہ رب کریم کے محبوبﷺ نے فرمایا نماز مومن کی معراج ہے.
آدم علیہ السلام جنّت کے باسی تھے. ہم انشاء الله جنت میں ضرور جایئں گے. ایسا ہم مسلمانوں کا الله پر اعتقاد ہے. اور میرے رب نے فرمایا جیسا میرے بندے کا مجھ پر اعتقاد ہوگا میں اپنے بندے سے ویسا ہی معملا کروں گا. میں ایک ادنیٰ اور عاجز انسان ہوں بس یہی کہتا ہوں سب مسلمانوں کو:
خــتم کــرو مایــــوسی اور سب سے نـــــفـــــرتیـں
دل رب کا گھــــــر ھے کــــوئی آستــــانہ ابلیس نہیـــں
زندگی آسان نہیں ہوتی بلکہ زندگی کو آسان بنانا پڑتا ہے. کچھ دعا کر کے، کچھ صبر کر کے، کچھ معاف کر کے اور کچھ نظر انداز کر کے. میں تو بس اتنا جانتا ہوں ہماری تنہائی ہمیں جس طرف مائل کرتی ہے، بس وہی ہمارے اندر کی اصل حقیقت ہے.
شیطان: وہ کہتے ہیں نہ کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے. اب تم لوگوں کو بہکانے، گمراہ کرنے اور دلوں میں وسوسے ڈالنے کا بیڑا اٹھایا ہے تو جہنم میں پہنچا دینے کی ہر ممکن کوشش کروں گا. تم مسلمانوں جیسا تو نہیں جو کام کا آغاز تو کر لیتے ہو مگر اختمام نہیں کر پاتے، بیزاری محسوس کرنے لگتے ہو.
خوف الٰہی اور تقوٰی:
اسد: پروردگار سورۃ الملک کی آیت ١٢ میں فرماتا ہے.
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ – بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔
ہم میں سے ہر مسلمان الله رب العزت سے بن دیکھےڈرتا ہے اور خوف الٰہی اور تقوٰی سے شرابور ہے.
شیطان: خوف الٰہی اور تقوٰی، ہو ہی نہیں سکتا تم لوگوں میں. ان میں سے کون سی برائی ہے جو تم میں نہیں مَثَلاً جھوٹ، فریب، غیبت، خود غرضی، مکّاری، دھوکہ، وعدہ خلافی، وحشت، دہشت، ظلم و زیادتی، اصراف، استبداد, استعمار، استکبار، نسلی رقابت، عصبیت، تقریباً ہر قسم کی برائیاں پائی جاتی ہیں سب سے بڑھ کر تم سب یہ ڈھونگ رچاتے ہو کے ایک دوسروں سے پیار کرتے ہو جبکہ سچی بات یہ ہے کہ حققت میں نفرت کرتے ہو ایک دوسرے سے.
ہاں جس دن تمارے اندر رحم، حلم، علم، ایثار و قربانی، اخوّت، الفت، خدمت خلق، سچّائی، وعدے کی وفا، جود و سخا، راست گوئی، حسن ظن، اللہ کی خلقت سے محبت و الفت، عدل و انصاف، قناعت، صبر و وفا جیسی خصلتیں پیدا ہو جائیں خود با خود خوف الٰہی اور تقوٰی الٰہی پیدا ہو جائے گا.
والدین اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب:
اسد: ہمارے دل میں محبت کا جزبہ فطری طور پر اللہ نے ودیعت کیا ہے. وہ ہر اس مادّی شہ سے محبّت کرتا ہے جسکا تعلق اسکی ذات سے وابسطہ ہوتا ہے. جیسے اپنے ملک، شہر، قریہ، محلّہ، مکان، جائیداد، بلکہ ہر معمولی یا قیمتی شہ جو اس سے وابستہ ہے محبت کرتا ہے. اسکے علاوہ اسکو اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنی نسل، عزیزدار، رشتہ دار، اپنے خاندان، اپنے آبا و اجداد، اپنی قوم و قبیلے سے محبت ہوتی ہے. یہ محبت اسکو قبائیلی نسلی ملکی یا ذاتی رقابت کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے جسے عصبیت (دشمنی) کا جزبہ بھی کہا جاتا ہے. جو عرب کے بدّئوں میں دور جہالت میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا. اور جو آج بھی ہمارے تحت الشعور میں باقی ہے. اب سوال یہ پیدہ ہوتا ہے ہم خاتم النبیین محمّد مصطفیﷺ سے کیونکر اور کتنی محبت کرتے ہیں.
حضرت ابو ھریرہ ؓ سے مروی ہے. رسول کریمﷺ نے فرمایا “قسم ہےاس کی جس کے ہاتھہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئ ایمان والا نہیں ہوگا جبتک میں اس کے والدین اور اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں” صحیح بخاری
شیطان: ویسے بتاتا چلوں تم کوئی خاص قسم کی قوم ہو. مطلب جتنی خوبیاں تم میں ہیں ایسی کسی امّت میں نہیں دیکھی. اندازہ کرو جب سے آدم علیہ السلام اور اولاد آدم علیہ السلام کا تصور ہے شیطان کی موجودگی تب سے ہے. آجتک ایسی غیر معمولی خوبیاں رکھنے والی امّت میں نے پوری نسل انسانی میں نہیں دیکھی. اور جو اب تم مسلمانوں کا حال ہے وہ کسی سے مغفی نہیں. مبالغہ ارائی تو اسقدر کرتے ہوکہ کیا بتائیں. مطلب تقریباً ہر وقت روتے ہی رہتے ہو. بھلے دنیا جہاں کی نعمتیں مل جائیں پھر بھی شکوہ کرتے رہتے ہو. ہر وقت مسائل کا ورد کرنے والوں کو مسائل پہچان لیتے ہیں، انکے پاس بار بار آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیں بڑا کرتے ہیں. دولت اور عہدے انسان کو عارضی طور پر بڑا کرتے ہیں. لیکن انسانیت اور اچھا اخـــــــلاق انسان کو ہمیشہ بلند درجے پر رکھتا ہے. مگر تم مسلمانوں میں اب انسانیت اور اخلاق کہاں.
سرکار مدینہ سے نسبت:
اسد: اللهﷻ کی لاتعداد نعمتوں کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے. مگر سب سے بڑی نعمت جسکا جتنا شکر ادا کریں کم ہے.
وہ ہے خاتم النبیین محمّد مصطفیﷺ کا امتی ہونا. میں کیسے نہ اتراوں اپنی قسمت پر کہ میری نسبت سرکار مدینہ سے ہے. میں اپنے مقدر پر قربان کیوں نہ جاؤں ہمیں تو نبیﷺ بھی وہ ملے جو نبیوں کے بھی امام ہیں.
اور ہاں ﺍﮔﺮ کوئی مسلمان ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ، ﺟﺎﮦ ﻭﻣﻨﺼﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﺧﻼﻕ، ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ، ﻋﻔﻮﺩﺭﮔﺰﺭ ﮐﯽﺻﻔﺖ ﻧﮧﮨﻮ ﺗﻮﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﭽﮫﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺪ ﻧﺼﯿﺐ ہے. تنگدستی میں سخاوت کرنا غصے میں سوچ کر بولنا اور طاقت کے ہوتے ہوئے معاف کردینا افضل ترین نیکیوں میں سے ہیں. اب تم بھلا کیا جانو یہ نیکی کس بلا کا نام ہے. ترمذی میں درج ہے. حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول نے فرمایا آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اس کا بدلہ بھی اتنا ہی بڑا ملتا ہے.
دعا ایک “امید” ھے, ایک “یقین” ھے, ایک “بھروسہ” ھے, ایک “وسیلہ” ھے, ایک “حوصلہ” ھے “دعا” ایک “محبت” ھے. اس لیے ہم سب دعاگو ہیں کے الله پاک ہم سب کو ہر ہر آزمائش سے نکلنے میں کامیاب کرے. آمین.
شیطان: صرف اور صرف نام کے امتی اور جھوٹے عاشق. بھئی عاشق ہوتے تو اپنے آخری پیغمبرﷺ کی کوئی سنت نہ چھوڑتے.
مگر تم لوگوں سے فرض ادا ہو جائے تو بڑی بات ہے. آج تمہاری ایک غلط فہمی میں ذرا دور کر دوں. تم سب نے یہ غلط فہمی پال رکھی ہے کہ الله نے شرک کے علاوہ باقی سب گناہ معاف کر دینے ہیں. تو سن لو بات کچھ یوں ہے وہ رب بےنیاز ہے اگر چاہے گا تو معاف کر دے گا مگر اس بنا پر تم گناہ پر گناہ کرتے جاؤ یہ تو مجھ شیطان کو خوش کرنے والی بات ہوئی نہ. بھلا شیطان کا دوست کیسے جنّت میں جا سکتا ہے. اور ہاں یہاں ضمناً بات کہے دیتا ہوں دیگر اوقات تم اس بات سے بےخبر ہوتے ہو کے شرک کر رہے ہو نہیں. تم میں اکثر اس بات سے لاعلم ہیں آخر شرک ہے کیا. بس میرا کام کافی آسان کر رکھا ہے. تم لوگوں کو شرک پر لگا دیکھ کر میں متمعن ہو جاتا ہون. ویسے تم نے اپنا نام نہیں بتایا، مطلب میرے متعلق گویا تمام حقائق جاننا چاہتے ہو اور اپنا نام بھی ظاہر نہیں کرتے. عجیب انسان لگتے ہو.
اسد: نام جان کر کیا کرو گے، نام بتایا تو کہیں بھاگ ہی نہ جاؤ اور یہ ملاقات ادھوری ہی نہ رہ جائے. خیر میرا نام اسد عقیل ہے.
شیطان: چلو آج تمہاری یہ غلط فہمی بھی دور کے دیتا ہوں گویا تمہارا سوچنا ہے کا نام اسد یعنی شیر رکھنے سے کوئی شیر بن جاتا ہے. مطلب نام اسد عقیل ہے اور اوصاف ہمارے والے… کردار تمہارہ کسی سے ڈھاکہ چھپا نہیں ہے. چلو مان لیتے ہیں نام کا انسان کی شخصیت پر عمل دخل ہو بھی سکتا ہو گا مگر تم جو اپنے نام پر دل ہی دل میں اترا رہے ہو گے تو یہ تمہاری خام خیالی ہے. مجموعی طور پر تم لوگ کسی اور ہی دنیا میں رہتے ہو بخوبی جان لو، ابوبکر، عمر، عثمان و علی کی شان تم کیا جانو. انکے نام بھی اگر رکھ لو تو ان جیسے اوصاف و اخلاص کہاں سے لاؤ گے. ان کی کوئی ایک خوبی تم میں ہو تو تمہارا مقام کہاں سے کہاں پہنچ جاے. جانتا ہوں اچھی طرح تم کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی دور میں تم بھی میرے ہی شکار رہے ہو گے. تم جیسوں کو تو جب چاہوں چٹکی بجا کر وسوسوں میں دال دوں.
دعا خیر:
اسد: اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾ سب تعریف اللہ تعالٰی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔
اللهﷻ تمام مسلمانوں کو شیطان کے شر اور وسوسوں سے محفوظ رکھے. تمام مسلمانوں پر اپنی رحمتیں، برکتیں، شفقتیں، عنایتیں، رحم، فضل و کرم عطا فرماتے اور ھمیشہ خوش و خرم اور اپنے حفظ و امان میں رکھے. آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن. الله رب العزت تمام مسلمانوں کو دنیا کے ھر شر، نظر بد، منافقین، حاسدین سے محفوظ فرماۓ اور اپنی رحمت کے سائے میں رکھے. اور غیر مسلمانوں کو کلمہ عطا فرماۓ آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن.
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا.
ہم سو گۓ داستان کہتے کہتے.
أعوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
یہ پڑھنے کی دیر تھی کے شیطان نو دو گیارہ ہو گیا. اور اچانک میری آنکھ بھی کھل چکی تھی. آج بہت سی حقیقتیں میرے سامنے کھلی تھیں. صبح بیدار ہوتے ہی اللهﷻ کے حضور اپنے تمام گزشتہ گناہوں پر شرمسار ہوتے ہوے معافی مانگی اور اللهﷻ سے توبہ کی اور اللهﷻ سے وعدہ کیا کہ مالک مانا ہم گناہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، خطاکار ہیں، بدکار ہیں مگر ہم تیرے ہی بندے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں.
کوشش کروں گا اپنی زندگی اللهﷻ اور سرکار مدینہ خاتم النبیین محمّد مصطفی ﷺ کی اطاعت میں گزاروں. اللهﷻ ہم تمام مسلموں کو پکا اور سچا عاشق رسولﷺ بننے کی توفیق عطا فرماۓ آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن.
يَا مُقَلّبَ الْقُلوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلیٰ دِیْنِكَ – اے دلوں کو پھیرنےوالے میرے دل کواپنے دین پر مضبوط جمادے اللّٰھم آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن.
اے اللہﷻ جب بھی موت دینا ایمان کی حالت پر دینا. کیونکہ خاتمہ بلایماں ہی دراصل حقیقی اور ابدی کامیابی ہے.
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر میں اس شعر پر اپنی گفتگو تمام کرتا ہوں.
کی محمّدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تيرے ہيں
يہ جہاں چيز ہے کيا، لوح و قلم تيرے ہي
اےاللهﷻ! ھم تجھ سے نفع دینے والاعلم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتے ھیں. اےاللهﷻ! ھمیں دین کی سمجھ عطا فرما. اےاللهﷻ! ھمارے دل میں ہدایت ڈال، ھمیں شیطان کے وسوسوں سے اور نفس کی برائی سے بچا اور ھمارے حساب کو آسان. فرما دے… آمِيْنُ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن.