آخرت کی فِکْر
قاری محمد حنیف ملتانی
حقیقت میں ہم اگر دین کی پاسدار بن گئے تو ہمارے اندر آخرت کی فکر بھی خود بخود آجائے گی۔ کیونکہ درج بالا اصول ان لوگوں کے لئے ہے جو بھی اس راہ راست سے ناواقف اور بےرخی اختیار کر چکی ہے۔ ہمارے لوگ کسی اور چیزوں میں مقید ہو گئے ہیں۔ اس کنویں سے نکالنے کے لئے پتہ نہیں کتنا عرصہ لگے گا۔ لیکن صرف اتنا ہی معلوم ہے جو کتابوں میں مذکور ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالی ایسی سزا دے گی کہ یہ لوگ یاد رکھیں گے۔
یہ حقیقت ہمیں پلّے باندھنا ہوگا کہ یہ دنیا ایک نہ ایک دن ہی ختم ہو جائے گی۔ اور دنیا کا یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور حساب وکتاب شروع ہو جائے گا۔ جس نے نیک اعمال کئے ہوں وہ جنت کو جائیں گے۔ اور جن لوگوں نے دنیا کو فضول اور عبث گزاری ہو وہ خوار ہوتے رہینگے۔
اللہ تعالی کی ذات نہایت مہربان ذات ہے۔ اللہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ ایک ماں کو دیکھیں وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے کتنا پیار کرتی ہے۔ اس کا پیمانہ تو ہمیں معلوم ہے لیکن اللہ کی محبت کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ اللہ سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اس کے دین کی اصولوں کی پاسداری کریں۔ نبی کریمﷺ کے مبارک طریقوں پر چلیں جو اس دنیا میں لائے ہیں۔ ان سے رہنمائی حاصل کریں جو حضرت محمدﷺ نے اپنی زندگی میں ہمیں کر کے دکھایا۔
Subscribe us on YouTube.
Like & Share…
https://www.youtube.com/@galzaari