آج ٹوٹر پر ایک ٹویٹ دیکھ کر سوچوں کا سمندر امڈ آیا اور میں ماضی میں جانے پر مجبور ہو گیا
قریب تین سال پہلے کی بات ہے. ميرے ایک کالج کے دوست یاسر کا فون آیا.
یار حسن میرے تایا ابو کی طبیعت کافی ناساز ہے اور ڈاکٹرز نے بی نیگیٹو بلڈ کی دو بوتتلیس مانگی ہیں.
تیرا بلڈ بھی تو بی نیگیٹو ہی ہے نہ— میرے اقرار پر یاسر ہربڑی میں بولا-
بس تو پھر تو ریڈی ہو جا میں دس منٹس تک تجھے بائیک پر لینے آتا ہوں
بس یہ سٹی ہسپتال تک ہی تو جانا ہے
ایک بوتل کا انتظام پہلے ہی ہو گیا ہے چاچو کے فرینڈ دے رہے ہیں نہ—
دو گھنٹے بعد بلڈ دے کر ہم فارغ ہو چکے تھے اور ہم دونوں ہسپتال کے مردانہ ھال میں انتظار کرنے لگے.
میں جوس پی رہا تھا اور یاسر علی کافی پینے میں مگن تھا.
یاسر سے پوچھنے پر پتہ چلا کے اس کے تایا ابو کو لیور کا معارضہ لاحک ہے. اور بچنے کی شاہد ہی کوئی امید باقی تھی.
انسان ہر حال میں اپنے عزیزوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے پھر بھلے ڈاکٹرز کنفرم ہی کیوں نہ کر دیں
کہ آپ کا مریض بس اب چند دنوں یا گھنٹوں کا مہمان ہے.
بس یارکیا بتاؤں تایا جی سرکاری افسر تھے اور زندگی خوب عیش و آرام سے گزاری- حلال و حرام کی فکر کئے بغیر بس دولت اکٹھی کی. دادا جن کے تین بیٹے تھے تایا ابو، میرے ابو اور چاچو
ابو اور چاچو بس نارمل کماتے ہیں- زیادہ پڑھ لکھ بھی نہ سکے تھے مگر پھر بھی جیسے تیسے گزارا ہو ہی جاتا ہے.
تایا ابو چونکے بڑے تھے، دادا ابو کے چہیتے تھے اور سب سے بڑھ کے اچھے ذھن کے مالک تھے.
جس کیوجہ سے زیادہ پڑھ لکھ گے. اچھی سرکاری نوکری اور پھر بڑے گھر میں شادی
پھر تائی اماں کے گھر جیسی معیار زندگی کیلئے خوب رشوت سے مال کمایا
بیٹے آٹی انجنیئر بن گے اور امریکا سیٹل ہیں، وہاں بڑے بیٹے کی شادی بھی ہوی.
اور بیٹی فشن ڈیزائننگ کا کورس کرنے لندن گئی اور وہاں کی ہی ہو کر رہ گئی.
وہاں کسی پاکستانی لڑکے سے شادی کر لی جو اسی کا کلاس میٹ ہی تھا.
بڑا بیٹا امریکا پڑھنے گیا تھا سنا ہے ایک گوری سے شادی ہو گئی
مطلب کرسچن سے شادی ہونے کا مطلب اگلی نسل پر گہرا اثر پڑے گا.
چھوٹا بیٹا ان سب سے اوپر نکلا، موصو ف بنا شادی کے ہی ایک لڑکی سے اپارٹمنٹ شیر کر رہے ہیں
اور وہ لڑکی خدا کو نہیں مانتی شاہد ایسے لوگو کو دہریہ بولتے ہیں.
یس اتھیست بلاتے ہیں. ان کے عقیدہ ہے کے خدا کی ذات ہے ہی نہیں. میں نے بات کو بڑھاتے ہوۓ بولا.
صابر راجپوت کے نام سے مشہور یاسر کے تایا ابو جو واقع بہت نمایاں شخصیت تھے اور میری دلی خواش تھی میں ان سے ملاقات کروں.
آج میری خواش پوری ہو بھی رہی تھی مگر آج میں ان کو ہسپتال میں الله تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے دیکھ رہا تھا.
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے مرے پاک پروردگار میں شرمندہ ہوں
ساری زندگی حلال و حرام میں فرق نہیں کیا.
میرے پروردگار اپنے حبیب کے صدقے مجھے معاف کر دیں.
میری سچی اور پکّی توبہ قبول کر لے میرے رب میں ترا گنہگار بندا ہوں
میرے گناہ بہت زیادہ ہیں. ساری عمر بچوں کو حرام کا لقمہ کھلایا.
اب ان کا جو حال ہے میں اس سے بےخبر نہیں ہوں.
یا رب ان کو صراط مستقیم پر چلا دے
یا الله مجھے معاف کر دیں- مرے رب میں تیرا بندا تو میرا رب.
آواز کچھ دہمی ہو گی تھی سانس اکھڑنے لگا تھا
پاس گھڑے رشتہ داروں کی پریشانی بھڑنے لگی تھی.
میرے بچوں کو تو اطلاع کر دی تھی نہ.
میرا مانی (بڑا بیٹا) نہیں آیا- وہ بیوی بچوں کیوجہ سے شاہد کچھ دیر سے ہی پنچے گا.
وه مینا (مانی سے چوٹی بیٹی) بھی نہیں آی- بیٹیاں تو باپ کا دکھ برداشت نہیں کر سکتی ہیں
دیکھو باہر مینا کو روم نہیں مل رہا ہو گا. وہ ضرور پونچھ گئی ہو گئی.
اور شانی (چھوٹا بیٹا)، شانی کو شاہد جلد ٹکٹ نہیں ملی ہو گی. ورنہ وہ تو رہ ہی نہیں سکتا میری بیماری کا سن کر.
دیکھو کوئی ائیرپورٹ گیا ہے لینے اس کو—
اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی. صابر صاحب کی روح عالم دنیا سے عالم برزخ کو پرواز کر چکی تھی.
میں نے جنازے سے کچھ دائر پہلے یاسر سے پوچھا بچے پھنچ گئے کیا.
یاسر مایوسی سے بولا تم بھی بہت بھولے ہو حسن، وہ تو تایا جان بچوں کو یاد کر رہے تھے جانے سے پہلے
اور اپنے دل کو سمجھا رہے تھے. بھلا ان کو اپنے باپ کی کہاں پرواہ
آنا ہوتا تو تب نہ آتے جب بتایا تھا کے چند مہینے ہیں تمہارے پاپا کے پاس
سب کا جواب یہی تھا کے ہم کچھ پیسے بھیج دیتے ہیں مگر آنا شاہد ممکن نہ ہو گا.
یو نو اٹس نوٹ ایزی- یو نو فیملی- اور ہمارا ابھی پیپرز بھی نہیں بنے.
بار بار بس اسی ٹوٹر کو پڑھا رہا تھا
اکثر لوگ اپنے دو چار بچوں کی خاطر، اپنی اور بچوں کی دو جہانوں کی زندگی تیاگ کر، اس دار فانی سے کوچ کر جاتے ھیں ۔۔۔