پکا ہوا پھل

آفس جاتے کم و بیش ہر روز حاجی بابا سے ملاقات ہوا کرتی تھی. سلام دعا روز کا معمول تھا. حاجی بابا ہماری ساتھ والی گلی میں رہتے ہیں اور کافی بوڑھے ہو چکے تھے. حاجی بابا صوم و صلات کے پابند تھے. نورانی چہرے پر سفید چمکدار داڑھی ان کی بزرگی پر چار چاند لگاتی تھی.

آج بھی صبح آفس جاتے ہوے حاجی بابا اپنے گھر کے باہر گلی میں ہی نظر آ گۓ.
کافی جوش و خروش سے ملے، آج تو کچھ زیادہ خوش دکھائی دے رہے تھے.
میں نے سلام کے بعد صحت اور طبیعت کا حال پوچھا.
سلام کا جواب تو دیا مگر اپنی خیروعافیت بتانے کی بجانے جلدى ميں بولے آج میرا بالی آ رہا ہے
اچھا اچھا آپ کا بیٹا بلال وہ جو اٹلی —
ابھی میری بات پوری بھی نہ ہوئی تھی. بات کاٹ کر بولے. ہاں بھئی بلال. لیکن میرا تو وہ بالی ہے نہ…
بلال عرف بالی ہمارے ساتھ ہی جوان ہوا تھا. اسکول و کالج کے دِنوں میں ایک ساتھ ہی پڑھا کرتے اور خوب کرکٹ بھی کھلتے تھے. رزق کی تلاش اُسے اٹلی لے گئی تھی اور اب وہ بلاخر اپنے وطن لوٹ رہا تھا.

بالی پورے دس سال بعد اٹلی سے آ رہا ہے نہ… آج میں بہت خوش ہوں حاجی بابا دھیمے مگر انتہائی خوشی کے لہجے میں بولے. میں ایک بوڑھے باپ کی دلی کیفیت سمجھ سکتا تھا جس کا اکلوتا بیٹا ایک مدت بعد گھر لوٹ رہا ہو.

شام کو آفس سے لوٹتے ہوے اپنے دروازے کے باهر بالی مل گیا. کافی صحت مند ہو چکا تھا.
بالی شاہد اٹلی جا کر کافی باتونی بھی ہو گیا تھا خیر میں سنتا رہا اور وہ کافی دیر تک بولتا گیا. اٹلی کی داستان تو ختم ہی نہ ہو رہی تھی.
بلاخر میں نے یہ کہہ کر اجازت لی کے آفس سے کافی تھکا لوٹا ہوں. ذرا فریش ہو لوں.
کل چھٹی ہے. بیٹھے ہیں اپنے پرانے اڈے پر. خوب باتیں کریں گے.
اور وہ تمہاری پسندیدہ کڑک چاۓ کے دور بھی چلیں گے. بالی بولا چل یار کل بیٹھے ہیں.
ایک بات نوٹ کی تھی میں نے دوران گفتگو … بار بار بس یہی دہراتا جاتا —
اب آرام کرنا ہے بار. بس اب سب کچھ میرا ہی تو ہے. بس اب آرام کرنا ہے. حاجی بابا اور کتنا جی لیں گے پکا ہوا پھل جلدی گرتا ہے نہ. …

اگلی صبح میری آنکھ چیخوں کی آوازیں سے کھلی
جلدی جلدی باہر نکلا، جس طرف سے آوازیں آ رہی تھیں. دوڑتے ہوے پہنچا
حاجی بابا کے گھر کے سامنے بہت لوگ جمع تھے

سوچا ابھی کل رات کو بات کر رہا تھا بالی … واقع پکے ہوے پھل کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا.
خیر اداسی میں آگے بڑھا تو دیکھا حاجی بابا ہچکیاں لے لے کر رو رہے تھے.
ہائے میرے الله میں کیا کروں میرا بالی — اوے بالی تو بولتا کیوں نہیں.
میرا بالی مجھے چھوڑ کے چلا گیا

ہائے میرے الله — میرا بالی … تیری جگہ الله مجھے اٹھا لیتا.

میں سکتے میں تھا. آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود یقین نہیں آ رہا تھا.
بائیں طرف سے ایک آواز سنائی دی. بیچارہ کل ہی واپس آیا تھا پورے دس سال بعد اور رات کو ہی ہارٹ اٹیک آ گیا
یہ سنتے ہی میرے اوسان خطا ہو گیۓ . ایک وقت کے لیے اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا.

بھر یکا یک میرے دماغ میں بالی کی کل شام والی باتیں گردش کرنے لگیں …
اب صرف آرام کرنا ہے. — اتنا جمع کر لیا ہے کے اب بس بیٹھ کر کھانا ہے.
حاجی بابا اور کتنا جی لیں گے پکا ہوا پھل جلدی گرتا ہے. بس اب سب کچھ میرا ہی تو ہے
بس اب سب کچھ میرا ہی تو ہے – – – اب تو صرف آرام ہی کرنا ہے.

میں حاجی بابا کو تسلی تو دے رہا تھا مگر میرا اپنا دل مطمین نہیں تھا. عقل ناقص سے سوچ رہا تھا آخر یہ ہوا کیا ہے.
مگر اس پاک پروردگار کی حکمت کو ہم کہاں سمجھ سکتے ہیں.
بیشک الله تعالیٰ بے نیاز ہے. اور ہماری عقل کہاں رَب کے فیصلوں کو سمجھ سکتی ہے.

آج بھی صبح آفس جاتے حاجی بابا سے ملاقات ہوئی تھی مگر اٙب اࣥن کے چہرے پر وہ سرخی اور چمک نہیں دیکھی.
ایک بوڑھے باپ کے لئے جوان اکلوتے بیٹے کا جنازہ اٹھانا کتنا دشوار ہو گا.
یہ بوجھ جو ان کے دل پر تھا صرف وہی جان سکتا ہے جس نے جوان بیٹے کو لحد میں اتارا ہو.
آج بھی وہ لمحہ میں نہیں بھلا پایا. محلے دار ہونے اور بچپن کا ساتھی ہونے کے ناطے میرے دکھ کی بھی کوئی انتہا نہیں تھی مگر… حاجی بابا کی تو دࣥنیا ہی اجڑ گئی تھی.

Leave a Comment